٢ ویغسل فی غیرظاہر من الروایة لانہ نفس من وجہ وہو المختار (٧١٩) واذا سبی صبی مع احد ابویہ ومات لم یصل علیہ ) ١ لانہ تبع لہما۔
الرزاق ، باب الصلاة علی الصغیر و السقط و میراثہ ، ج ثالث ، ص ٣٤٨، نمبر ٦٦٣٠ مصنف ابن ابی شیبة ، باب ١١٠، من قال لایصلی علیہ حتی یستھل صارخا ، ج ثالث ، ص ١١، نمبر ١١٥٩٩) اس اثر سے معلوم ہوا کہ زندگی کے بغیر پیدا ہوا ہو تواس پر نماز نہیں پڑھی جا ئے گی ، البتہ انسانی کرامت کی وجہ سے کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیا جا ئے گا ۔ (٢)و أخبرنی من رأی ابن مجاھد مات لہ سقط فلفہ فی خرقة و وضعہ فی کمہ و ذھب بہ وحدہ و دفنہ و صلی علیہ ۔( مصنف عبد الرزاق ، باب الصلاة علی الصغیر و السقط و میراثہ ، ج ثالث ، ص ٣٤٧، نمبر ٦٦٢٧) اس اثر سے معلوم ہوا کہ کپڑے میں لپیٹ دیا جا ئے گا ۔
ترجمہ: ٢ اور غیر ظاہر روایت میں یہ ہے کہ غسل دیا جا ئے گا ، اس لئے کہ من وجہ نفس ہے ۔ مختار مذہب یہی ہے ۔
تشریح : غیر ظاہر روایت میں یہ ہے کہ جو بچہ مردہ پیدا ہوا ہے اس کو بھی غسل دیا جا ئے ، اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ کم از کم انسان تو ہے اسلئے غسل دیا جا ئے اور کپڑے میں لپیٹ کر دفن کیا جا ئے چاہے اس پر نماز نہ پڑھے ، مختار مذہب یہی ہے ۔
ترجمہ: (٧١٩) اگر بچہ ماں یا باپ میں سے کسی ایک کے ساتھ قید ہو کر آیا اور انتقال کر گیا تو اس پر نماز نہیں پڑھی جا ئے گی ۔
ترجمہ : ١ اسلئے کہ وہ والدین کے تابع ہے۔
تشریح : قاعدہ یہ ہے ]١[کہ بچہ ماں باپ کے تابع ہو تا ہے اور اسی پر اسکے دین کا فیصلہ ہو تا ہے ۔ ]٢[ہاں اگر ماں اورباپ الگ الگ مذہب کے ہیں تو ان میں سے جس کا مذہب اچھا ہو گا بچہ اسکے تابع ہو گا ، مثلا باپ بت پرست ہے اور ماں عیسائی ہے تو بچہ عیسائی شمار کیا جا ئے گا ، کیونکہ عیسائی مذہب بت پرست سے اچھا ہے کیونکہ وہ دین فطرت سے زیادہ قریب ہے یا ماں مسلمان ہے اور باپ عیسائی ہے تو بچہ مسلمان شمار کیا جا ئے گا کیونکہ اسلام عیسایت سے اچھا ہے ، اس لئے قاعدہ یہ ہے کہ بچہ خیر الابوین کے تحت ہو گا۔]٣[ تیسری شکل یہ ہے کہ خود بچہ سمجھدار ہو اور وہ اسلام قبول کر لے تو اب بچہ مسلمان شمار کیا جا ئے گا چاہے ماں باپ کا فر ہوں ۔
بچہ ماں باپ میں سے کسی ایک کے ساتھ قید ہو کر آیا ہے یا دونوں کے ساتھ قید ہو کر آیا ہے ، اور ماں باپ کا فر ہیں تو چونکہ بچہ بھی اسکے تابع ہو کر کا فر شمار کیا جا ئے گا اسلئے بچے پر نماز نہیں پڑھی جا ئے گی
وجہ : (١) کافر پر نماز جنازہ نہ پڑھنے کی ممانعت اس آیت میں ہے ۔ و لا تصل علیٰ أحد منھم مات أبدا و لا تقم علی قبرہ انھم کفروا باللہ و رسولہ و ما توا و ھم فاسقون ۔( آیت ٨٤، سورة التوبة ٩) اس آیت میں ہے کہ کافر پر کبھی بھی نماز نہیں پڑھنی چاہئے (٢)اور بچہ ماں باپ کے تابع ہو تا ہے بلکہ خیر الابوین کے تابع ہو تا ہے اسکی دلیل یہ آیت ہے ۔ کان ابن عباس مع أمہ من المستضعفین و لم یکن مع ابیہ علی دین قومہ ، و قال : الاسلام یعلو و لا یعلی ۔( بخاری