ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2003 |
اكستان |
|
مسئلہ : اگر ایک سے زیادہ مقتدی ہوں تو امام کے پیچھے ان کو صف باندھ کر کھڑا ہوناچاہیے۔ اگر امام کے دائیں بائیں جانب کھڑے ہوں اور دو ہوں تو مکروہ تنزیہی ہے اور اگر دوسے زیادہ ہوں تو مکروہ تحریمی ہے اس لیے کہ جب دو سے زیادہ مقتدی ہوں تو امام کا آگے کھڑا ہونا واجب ہے۔ مسئلہ : اگر نماز شروع کرتے وقت ایک ہی مرد مقتدی تھا اور وہ امام کی دائیں جانب کھڑا ہوا۔ اس کے بعد اور مقتدی آگئے تو پہلے مقتدی کو چاہیے کہ پیچھے ہٹ جائے تاکہ سب مقتدی مل کرامام کے پیچھے کھڑے ہوں ۔اگر وہ نہ ہٹے تو ان مقتدیوں کو چاہیے کہ اس کو کھینچ لیں اور ا گر لاعلمی سے وہ مقتدی امام کے دونوں جانب کھڑے ہو جائیں اور پہلے مقتدی کو پیچھے نہ ہٹائیں تو امام کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھ جائے تاکہ وہ مقتدی سب مل جائیں اور امام کے پیچھے ہو جائیں ۔اسی طرح اگر پیچھے ہٹنے کی جگہ نہ ہو تب بھی امام ہی کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھ جائے لیکن اگر مقتدی مسائل سے ناوقف ہو جیسا کہ ہمارے زمانہ میں غالب ہے تو اس کو ہٹانا مناسب نہیں کبھی کوئی ایسی حرکت کر بیٹھے کہ جس سے نماز ہی غار ت ہو۔ مسئلہ : اگر مقتدی عورت ہو یا نابالغ لڑکی تو اس کو چاہیے کہ امام کے پیچھے کھڑی ہو خواہ ایک ہو یا ایک سے زائد۔ مسئلہ : اگر مقتدیوں میں مختلف قسم کے لوگ ہوں کچھ مرد کچھ عورتیں کچھ نابالغ تو امام کو چاہیے کہ اس ترتیب سے ان کی صفیں قائم کرے پہلے مردوں کی صفیں، پھرنابالغ لڑکوں کی ، پھر بالغ عورتوں کی ،پھر نابالغ لڑکیوں کی ۔ مسئلہ : امام کو چاہیے کہ صفیں سیدھی کرے یعنی صف میں لوگوں کو آگے پیچھے ہونے سے منع کرے سب کو برابر کھڑا ہونے کاحکم دے۔ صف میں ایک کو دوسرے سے مل کر کھڑا ہونا چاہیے دررمیان میں خالی جگہ نہ رہنی چاہیے۔ مسئلہ : تنہا ایک شخص کا صف کے پیچھے کھڑا ہونا مکروہ ہے بلکہ ایسی حالت میں چاہیے کہ اگلی صف سے کسی آدمی کو کھینچ کراپنے ہمراہ کرلے لیکن کھینچنے میں اگر احتمال ہو کہ وہ اپنی نماز خراب کرلے گا یا برا مانے گا توجانے دے۔ مسئلہ : پہلی صف میں جگہ ہوتے ہوئے دوسری صف میں کھڑا ہو نا مکروہ ہے ہاں جب صف پوری ہو جائے تب دوسری صف میں کھڑا ہونا چاہیے