ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2003 |
¾اكستان Ù |
|
(٣) میں قریباً چھ سال کی قید پوری کر چکاہوں ۔اور اگر تمام معمول کے مطابق دی گئی تخفیف شامل کی جائے تومیں قریباً دس سال کی قید پوری کر چکا ہوں ۔درحقیقت تمام وہ قیدی جنہیں قتل ،ڈاکہ زنی اور دیگر غیر اخلاقی جرائم کی وجہ سے دس سال تک کی سزا دی گئی تھی۔ اور انہیں قریباً اس وقت گرفتار کیا گیا جب مجھے گرفتار کیا گیاتھا ۔مع ان لوگوں کے جنہیں مارشل لا کے تحت سزا دی گئی تھی وہ سب یا تو رہا ہو چکے ہیں یا ہونے والے ہیں۔ (٤) اس سے پیشتر ماضی میں بریگیڈئیر ایف ۔بی ۔علی اور اس کے ٢٢ ساتھی جنہیں ٧٣ء میںبھٹو حکومت کے خلاف سازش کیس میں ١٤سال تک کی سزا دی گئی تھی ان سب کو قریباً چاریا ساڑھے چار سال قید گزارنے کے بعد رہا کر دیا گیاتھا۔ اسی طرح خان ولی خان جس کے خلاف ٧٦ء میں سازش کے جرم میں مقدمہ چلایا گیا تھا اسے بھی قریباً ڈیڑھ سال بعد رہا کردیا گیا۔٥١ء میںجنرل اکبر اور اس کے ساتھی جن میں فیض احمد فیض اور سابقہ وفاقی وزیر ارباب نیاز محمد شامل تھے۔ اور ان پر سازش کے جرم میں کی سزائیں سنائی گئی تھیں انہیں بھی قریباً چار سال بعد ٥٥ء میں رہا کر دیا گیا تھا۔ (٥) میں اپنی ماضی کی قومی خدمات کا ذکر نہیں کرنا چاہتا تھالیکن بریگیڈئیر ایف ۔بی ۔علی جنرل اکبر اور بہت سے دیگر سیاسی رہنما جنہوں نے جنرل ضیا ء کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور ان سب کو اب رہا کردیا گیا ہے۔میں سمجھتاہوں کہ میں اپنے متعلق مختصر طور پر اپنی قومی خدمات کا کچھ ذکر کردوں تاکہ آپ کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ (الف) ٦٥ء کی ہندو پاک جنگ میں ٦ستمبر کو میں نے لاہور بچانے میں نمایا ں کر دار ادا کیا تھا۔ اس وقت میں لیفٹینٹ کرنل تھا۔ اور اس روز کی جنگی کارروائی کا مختصر ذکر اس کتبہ پر کندہ ہے جو واہگہ روڈ باٹا پور کے مقام پربی۔آر۔بی ایل نہر کے کنارے پرنصب ہے اگر خدا نخواستہ میں اس روز کچھ کمزوری دکھا جاتا یا کوئی فنونِ حرب میں غلطی کر جاتا تو اس روز زیادہ سے زیادہ گیارہ بجے تک لاہور دشمن کے قبضے میںچلا جاتا ۔اور اس کے بعد پوری جنگ کانقشہ ہی بدل جاتا ۔(یہ تمام تفصیلات آج بھی اس کتبہ سے پڑھی جا سکتی ہیں) ۔ (ب) ٧١ء کی جنگ میں میں بریگیڈئیر کمانڈر تھا ۔اور مشرقی پاکستان میں ھلی بوگرہ سیکٹر میں تعین تھا۔ ہندوستانی فوج اپنی کوشش کے باوجود میرے محاذکو نہ توڑسکی اور جنگ ختم ہونے تک میرے محاذ پر دشمن