ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2003 |
اكستان |
|
اس سے پتا چلا آپ کو کہ یہ واقعہ جس نے اخبار میں نقل کیا ہے کہ ''حضرت'' نے رسول اللہ ۖ کو خواب میں دیکھا اور انہوں نے یہ فرمایااور اس جواب پر اُن کے مقابلے میں حضرت نے یہ بات فرمائی ''یہ بالکل جھوٹا تاثر اوربہتان ہے ۔حضرت رحمةاللہ علیہ تو عاشق ِرسول تھے اور ان کا عاشقِ رسول ہونا اُس وقت کے تمام اولیاء کبار کی نظر میں مسلّم ہے یعنی حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی رحمة اللہ علیہ نے بھی ان کو خلافت دے رکھی تھی اورحضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمة اللہ علیہ نے بھی انہیں خلافت دے رکھی تھی ،حاجی صاحب نے بھی اُن کی خصوصی تربیت فرمائی اور حضرت گنگوہی نے بھی اُن کی خصوصی تربیت فرمائی پھر حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ کے بعد مُسلَّم اور بِلا کسی تردد کے ان کے جانشین ہیں اور اُن کے مشن کے حامل اور محافظ ہیں اور بڑی خدمات ہیں ان کی یہ خدمات نہ ہوتیں اوروہ قربانیاںنہ ہوتیں تو آج ہندوستان پاکستان میں دین نہ رہتا ۔ حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں اتنے بڑے عالم حکیم ا لامّت کہ میں سوچتا تھا کہ میرے بعد یہ سلسلہ کیسے چلے گا تو فرماتے ہیں کہ میں جب آپ سے ملا ہوں تومجھے اطمینان ہوگیا ۔اتنے بڑے عالم حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ یہ فرماتے ہیں ،یعنی ہر ایک کا اُن پر اعتماد اور اطمینان اور حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ تو اُن کا ایسے ادب کرتے تھے جیسے کوئی اپنے پیر کا کرتاہے۔ ایک دفعہ حضرت کی مجلس میں ہی حضرت مدنی کو کسی پر غصہ آگیا تو ڈانٹا اس کو ، توان کے ساتھ حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ بیٹھے تھے حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ پرکپکپی طاری ہو گئی ۔ایک دفعہ فرمایا یہ واقعہ میرا پڑھا ہوا نہیں ہے صدری واقعہ ہے میں نے سُنا ہے بہت سے لوگوں سے کہ انہوںنے خود حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ سے یہ بات سُن رکھی ہے، ہو سکتاہے لکھا ہوا بھی ہو کہیں لیکن میرے علم میں نہیں ہے فرمایا کہ عبیداللہ یہ میرے داڑھی کا بال لے جائو اس سے حسین احمد کا جوتا سی دو۔ حضرت لاہوری نے یہ بھی فرمایاکہ مجھے باطن دیکھنے کا ذوق ہے غالباً حرمین کے بارے میں ہے کہ وہاں اہلِ باطن یا اولیاء کبار جمع تھے جب میں نے سب کے باطن جھانکے توحضرت مدنی رحمة اللہ علیہ سے بڑا کسی کا باطن نہیں تھا۔ تو اتنے بڑے آدمی تھے ان کے بارے میں زبان سے کچھ نکالنا اپنی ہلاکت اور تباہی ہے ۔حدیث شریف میںآتاہے من عادیٰ لی ولیا فقد آذنتہ بالحرب کہ جس نے میرے ولی سے عداوت کی اللہ کہتا ہے میرا اُس سے اعلانِ جنگ ہے ۔اعلانِ جنگ کالفظ جو ہے دوچیزوں کے لیے آیا ہے حدیث اور قرآن میں ایک سودخور کے لیے آتاہے اور دُوسرے جو اللہ والوں سے عداوت رکھے اُن کا بُرا چاہے ان کے خلاف پروپیگنڈہ کرے اُن کے لیے یہ لفظ آتا ہے۔ اس لیے جو ایسی بات کرے اس کا جواب دینا چاہیے اور اُسے ڈراناچاہیے کہ تم اپنی آخرت خراب کرنے کے درپے ہو اپنی آخرت کو بچائو۔ ان کا کچھ نہیں ہوگا تمہارا ستیاناس ہو جائے گا اور اس میں دسیوں واقعات ہیں حضرت کی مخالفت کرنے والوں کا کیا خوفناک انجام ہوا ایک نے مخالفت کی تھی حضرت کو گالی دی تھی وہ تنورمیں جل کر مرگیا ایسا جلا کہ اُس کی ہڈیاں بھی جل گئیں ۔کسی اور نے کی تو شاید وہ یااس کا بیٹا اگلے ہی دن ڈوب گیا اور دسیوں