Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2003

اكستان

27 - 66
اس سے پتا چلا آپ کو کہ یہ واقعہ جس نے اخبار میں نقل کیا ہے کہ ''حضرت'' نے رسول اللہ  ۖ  کو خواب میں دیکھا اور انہوں نے یہ فرمایااور اس جواب پر اُن کے مقابلے میں حضرت نے یہ بات فرمائی ''یہ بالکل جھوٹا تاثر اوربہتان ہے ۔حضرت رحمةاللہ علیہ تو عاشق ِرسول تھے اور ان کا عاشقِ رسول ہونا اُس وقت کے تمام اولیاء کبار کی نظر میں مسلّم ہے یعنی حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی رحمة اللہ علیہ نے بھی ان کو خلافت دے رکھی تھی اورحضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمة اللہ علیہ نے بھی انہیں خلافت دے رکھی تھی ،حاجی صاحب نے بھی اُن کی خصوصی تربیت فرمائی اور حضرت گنگوہی نے بھی اُن کی خصوصی تربیت فرمائی پھر حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ کے بعد مُسلَّم اور بِلا کسی تردد کے ان کے جانشین ہیں اور اُن کے مشن کے حامل اور محافظ ہیں اور بڑی خدمات ہیں ان کی یہ خدمات نہ ہوتیں اوروہ قربانیاںنہ ہوتیں تو آج ہندوستان پاکستان میں دین نہ رہتا ۔ حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں اتنے بڑے عالم حکیم ا لامّت کہ میں سوچتا تھا کہ میرے بعد یہ سلسلہ کیسے چلے گا تو فرماتے ہیں کہ میں جب آپ سے ملا ہوں تومجھے اطمینان ہوگیا ۔اتنے بڑے عالم حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ یہ فرماتے ہیں ،یعنی ہر ایک کا اُن پر اعتماد اور اطمینان اور حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ تو اُن کا ایسے ادب کرتے تھے جیسے کوئی اپنے پیر کا کرتاہے۔ ایک دفعہ حضرت کی مجلس میں ہی حضرت مدنی   کو کسی پر غصہ آگیا تو ڈانٹا اس کو ، توان کے ساتھ حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ بیٹھے تھے حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ پرکپکپی طاری ہو گئی ۔ایک دفعہ فرمایا یہ واقعہ میرا پڑھا ہوا نہیں ہے صدری واقعہ ہے میں نے سُنا ہے بہت سے لوگوں سے کہ انہوںنے خود حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ سے یہ بات سُن رکھی ہے، ہو سکتاہے لکھا ہوا بھی ہو کہیں لیکن میرے علم میں نہیں ہے فرمایا کہ عبیداللہ یہ میرے داڑھی کا بال لے جائو اس سے حسین احمد کا جوتا سی دو۔ حضرت لاہوری نے یہ بھی فرمایاکہ مجھے باطن دیکھنے کا ذوق ہے غالباً حرمین کے بارے میں ہے کہ وہاں اہلِ باطن یا اولیاء کبار جمع تھے جب میں نے سب کے باطن جھانکے توحضرت مدنی رحمة اللہ علیہ سے بڑا کسی کا باطن نہیں تھا۔ تو اتنے بڑے آدمی تھے ان کے بارے میں زبان سے کچھ نکالنا اپنی ہلاکت اور تباہی ہے ۔حدیث شریف میںآتاہے من عادیٰ لی ولیا فقد آذنتہ بالحرب کہ جس نے میرے ولی سے عداوت کی اللہ کہتا ہے میرا اُس سے اعلانِ جنگ ہے ۔اعلانِ جنگ کالفظ جو ہے دوچیزوں کے لیے آیا ہے حدیث اور قرآن میں ایک سودخور کے لیے آتاہے اور دُوسرے جو اللہ والوں سے عداوت رکھے اُن کا بُرا چاہے ان کے خلاف پروپیگنڈہ کرے اُن کے لیے یہ لفظ آتا ہے۔ اس لیے جو ایسی بات کرے اس کا جواب دینا چاہیے اور اُسے ڈراناچاہیے کہ تم اپنی آخرت خراب کرنے کے درپے ہو اپنی آخرت کو بچائو۔ ان کا کچھ نہیں ہوگا تمہارا ستیاناس ہو جائے گا اور اس میں دسیوں واقعات ہیں حضرت کی مخالفت کرنے والوں کا کیا خوفناک انجام ہوا ایک نے مخالفت کی تھی حضرت کو گالی دی تھی وہ تنورمیں جل کر مرگیا ایسا جلا کہ اُس کی ہڈیاں بھی جل گئیں ۔کسی اور نے کی تو شاید وہ یااس کا بیٹا اگلے ہی دن ڈوب گیا اور دسیوں

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
85 اس شمارے میں 3 1
86 حرف آغاز 4 1
87 درس حدیث 6 1
88 حضر ت عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نبی علیہ السلام 6 87
89 مزید خصوصیت : 6 87
90 حضرت عمر کا کوفہ کے لیے ان کو منتخب فرمانا : 7 87
91 طلباء کے فرائض 8 1
92 طلبا کا پہلا فرض : 8 91
93 طلبا کادوسرا فرض : 9 91
94 بقیہ : درس حدیث 10 87
95 الوداعی خطاب 11 1
96 جنت کیاہے ؟ : 12 95
97 جہنم کیا ہے : 12 95
98 علماء اور طلباء پر کیا لازم ہے : 12 95
99 تفصیلاً علم سیکھنا فرضِ کفایہ ہے : 13 95
100 مثال سے ضاحت : 13 95
101 دُنیاوی کاموں سے اسلام نہیںروکتا : 13 95
102 عالم دین کی خدمت کو نہیں چھوڑ سکتا : 14 95
103 فتنہ کا دور، دجال کی آمد : 14 95
104 پورے عالم کے اعتبار سے صدیاں دنوں کی طرح ہوتی ہیں : 14 95
105 دجال کی آمد سے پہلے چھوٹے چھوٹے دجال پیدا ہوں گے : 14 95
106 دجالی قوتیں نبی علیہ السلام کی سیاسی اور اقتدارسے متعلق پیشین گوئیوں سے خوب آگاہ ہیں : 15 95
107 خراسان ہمارا پڑوس اور اس کی اہمیت : 15 95
108 ''این جی او ''دجالی فتنہ ، غریب مسلمان ان کا پہلا نشانہ : 15 95
109 فقرکبھی کفر کا سبب بن جاتاہے : 16 95
110 اب پچھلے لوگوں جیسا ایمان مضبوط نہیں ہے : 16 95
111 کفر کا طریقۂ واردات : 17 95
112 ان کے ایمان بچانے کی ترکیب : 17 95
113 دجالی فتنہ کا ایک واقعہ : 18 95
114 سندھ اور پنجاب : 18 95
115 غریبوں کی مدد - نبیوں کی ترجیحات : 19 95
116 نبی علیہ السلام کی معاشرتی فلاحی سرگرمیاں : 19 95
117 آپ حضرات نبی علیہ السلام کے وارث ہیں : 20 95
118 عبرتناک واقعہ : 21 95
119 ایک اور واقعہ : 22 95
120 آغا خانی اور شمالی علاقہ جات : 22 95
121 ایک اور ناپاک مقصد : 23 95
122 علماء اور طلباء کے اہم اہداف : 23 95
123 ذکر فکر کی طرف توجہ اور ا س کا فائدہ : 24 95
124 مثال سے و ضاحت : 24 95
125 ایک طالب علم کا اشکال اور اُس کا جواب : 24 95
126 بڑے حضرت کی ہر طالب علم اور مرید کو نصیحت : 28 95
127 حج 29 1
128 مفہوم اور فرضیت : 29 127
129 ١۔ احرام : 30 127
130 ٢۔ تلبیہ : 30 127
131 ٣۔ طواف : 31 127
132 ٤۔ حجرِاسود کا بوسہ : 31 127
133 ٥۔ سعی بین ا لصفّاوالمروہ : 31 127
134 ٦۔ وقوفِ عرفہ : 32 127
135 ٧۔ قیامِ مزدلفہ : 32 127
136 ٨۔ منٰی کا قیام اور قربانی : 32 127
137 ٩۔ حلق رأس : 33 127
138 ١٠۔ رمی جمار : 33 127
139 حج کے مصالح 33 127
140 انفرادی مصالح 34 127
141 ا۔ احساسِ عبدیت : 34 127
142 ٢۔ اظہارِمحبوبیت : 34 127
143 ٣۔ جہاد ِزندگی کی تربیت : 35 127
144 ٤۔ ماضی سے وابستگی : 36 127
145 اجتماعی مصالح 37 127
146 ١۔ اخوت کے جذبات کا پیدا ہونا : 37 127
147 ٢۔ غیر فطری عدمِ مساوات کا خاتمہ : 38 127
148 سیاسی مصالح 38 127
149 ١۔ احساسِ مرکزیت : 38 127
150 خالص دینی اور اُخروی مصالح 39 127
151 ١۔ یادِ آخرت : 39 127
152 ٢۔ گناہوں کی معافی : 39 127
153 ٣۔ حج کابدلہ جنت ہے : 40 127
154 ٤۔ حج کی جامعیت : 40 127
155 انتقال پر ملال 41 1
156 جیل سے حضرت اقدس کے نام ایک خط 42 155
157 ١٩٨٢ء میں ساہیوال جیل میں راقم نے ملاقات کی ۔اس موقع پر ایک خط 46 155
158 میجر جنرل (ریٹائرڈ) تجمل حسین 47 155
159 میجر جنرل ریٹائرڈتجمل حسین 48 155
160 سیّد العلماء والطلبائ 50 1
161 اہم اعلان 53 1
162 ولادتِ مسیح علیہ السلام اور ٢٥دسمبرتحقیقی جائزہ 55 1
163 دینی مسائل( جماعت کے احکام ) 60 1
164 جماعت ِثانیہ : 60 163
165 امامت کے فرائض : 61 163
166 عالمی خبریں 64 1
167 مسلم حکمران اور مقامِ عبرت 64 166
168 تنگ نظری کی انتہائ 64 166
Flag Counter