Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2003

اكستان

26 - 66
 اوائل١٩٤٦ء میںجنرل الیکشن کی ہنگامہ خیزیوں کا زمانہ تھا۔ حضرت شیخ الاسلام مولاناسیّد حسین احمدمدنی نوراللہ مرقدہ مسلم پارلیمنٹری بورڈکے اُمّیدواروںکوکامیاب بنانے کے لیے تمام ہندوستان کا طوفانی دورہ فرمارہے تھے ۔صوبۂ بنگال میں تمام صوبوں کے بعد الیکشن ہوا تھا اس لیے حضرت شیخ الاسلام اواخر فروری میں نواکھالی تشریف لے گئے مختلف مقامات پر حضرت کی تقریروں کا پروگرام بنا ۔آپ کے سفر سے متعلقہ انتظامات راقم الحروف سے متعلق تھے۔ بہر حال ہمارا قافلہ ٣مارچ کی شام گوپال پور تھانہ بیگم گنج پہنچا ۔مولانا عبدالحکیم صدیقی ،مولانا نافع گل   ١   اور دیگر چار پشاوری طالب علم ہمراہ تھے۔ چودھری رزاق الحیدر چیئرمین ڈسٹرکٹ بورڈ نواکھالی کے دولت کدہ پر قیام ہوا دوسرے دن ایک عظیم الشان جلسہ میں انتخابی تقریر کرنی تھی نماز عشاء کے بعد ١١بجے طعام تناول کیا اور تقریباً ١٢بجے سونے کی غرض سے آرام فرمانے لگے۔ راقم الحروف پائوں دباتا رہا کچھ دیر کے بعد آپ کو نیند آگئی اور ہم لوگ دوسرے کمرے میں بعض ضروری کاموں کی تکمیل میں مصروف ہو گئے۔تقریباً دوبجے شب کو راقم الحروف اور چودھری محمدمصطفی(ریٹائرڈ) انسپکٹرمدراس کو طلب فرمایا ۔ہم دونوں فوراً حاضرِ خدمت ہوئے ۔ارشاد فرمایاکہ: لو بھئی ! اصحابِ باطن  ٢  نے ہندوستان کی تقسیم کا فیصلہ کردیا اور ہندوستان کی تقسیم کے ساتھ بنگال وپنجاب کو بھی تقسیم کر دیا۔ یہ سُن کر راقم الحروف نے عرض کیا کہ اب ہم لوگ جو تقسیم کے مخالف ہیں کیا کریں گے؟ آپ نے جواب دیا کہ ہم لوگ ظاہر کے پابند ہیں اور جس بات کو حق سمجھتے ہیں اس کی تبلیغ پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیںگے۔دوسرے دن گوپال پور کے عظیم الشان جلسہ میں تقسیم کی مضرتوں پر معرکة الآراء اور تاریخی تقریر فرمائی ۔اور ایک سال چارماہ بعد ٣جون ٤٧ء کو لارڈ مائونٹ بیٹن گورنر جنرل ہند کے غیر متوقع اعلان سے اس پیشین گوئی کی حرف بحرف تصدیق ہوگئی۔   		       (مولانا رشیداحمد صاحب صدیقی ۔کلکتہ)	  
  ١   حضرت مولانا سیّد نافع گل صاحب کاکا خیل رحمة اللہ علیہ بہت بڑے مشہور عالم ہیں دارالعلوم دیوبند کے بڑے نامور مدرس ہیں ان کے بڑے بھائی مولانا عُزیرگل صاحب کاکا خیل اسیرِ مالٹا حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ کے ساتھ قید بھی رہے اور تحریک کے بڑے لوگوں میں تھے ان کا مزار سخاکوٹ مردان مالاکنڈ ایجنسی میں ہے، حضرت مولانا عزیرگل صاحب رحمة اللہ علیہ اور حضرت مولانا نافع گل صاحب رحمة اللہ علیہ دونوں بڑے لوگ ہیں اور وہاں حضرت کے پاس رہتے تھے یہ ان کے بارے میں لکھا ہے۔   ٢   کس نے کیا؟ کیا لفظ ہے یہاں ''اصحابِ باطن''۔خواب کا ذکر اس میں کہیں ہے کہ'' میں نے خواب دیکھا '' یہ جملہ بھی نہیں ہے اور نبی علیہ الصلوةو السلام کا ذکر بھی نہیں ہے کہ میںنے ان کو دیکھا ۔ بس اصحابِ باطن کا ذکر ہے۔ 


x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
85 اس شمارے میں 3 1
86 حرف آغاز 4 1
87 درس حدیث 6 1
88 حضر ت عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نبی علیہ السلام 6 87
89 مزید خصوصیت : 6 87
90 حضرت عمر کا کوفہ کے لیے ان کو منتخب فرمانا : 7 87
91 طلباء کے فرائض 8 1
92 طلبا کا پہلا فرض : 8 91
93 طلبا کادوسرا فرض : 9 91
94 بقیہ : درس حدیث 10 87
95 الوداعی خطاب 11 1
96 جنت کیاہے ؟ : 12 95
97 جہنم کیا ہے : 12 95
98 علماء اور طلباء پر کیا لازم ہے : 12 95
99 تفصیلاً علم سیکھنا فرضِ کفایہ ہے : 13 95
100 مثال سے ضاحت : 13 95
101 دُنیاوی کاموں سے اسلام نہیںروکتا : 13 95
102 عالم دین کی خدمت کو نہیں چھوڑ سکتا : 14 95
103 فتنہ کا دور، دجال کی آمد : 14 95
104 پورے عالم کے اعتبار سے صدیاں دنوں کی طرح ہوتی ہیں : 14 95
105 دجال کی آمد سے پہلے چھوٹے چھوٹے دجال پیدا ہوں گے : 14 95
106 دجالی قوتیں نبی علیہ السلام کی سیاسی اور اقتدارسے متعلق پیشین گوئیوں سے خوب آگاہ ہیں : 15 95
107 خراسان ہمارا پڑوس اور اس کی اہمیت : 15 95
108 ''این جی او ''دجالی فتنہ ، غریب مسلمان ان کا پہلا نشانہ : 15 95
109 فقرکبھی کفر کا سبب بن جاتاہے : 16 95
110 اب پچھلے لوگوں جیسا ایمان مضبوط نہیں ہے : 16 95
111 کفر کا طریقۂ واردات : 17 95
112 ان کے ایمان بچانے کی ترکیب : 17 95
113 دجالی فتنہ کا ایک واقعہ : 18 95
114 سندھ اور پنجاب : 18 95
115 غریبوں کی مدد - نبیوں کی ترجیحات : 19 95
116 نبی علیہ السلام کی معاشرتی فلاحی سرگرمیاں : 19 95
117 آپ حضرات نبی علیہ السلام کے وارث ہیں : 20 95
118 عبرتناک واقعہ : 21 95
119 ایک اور واقعہ : 22 95
120 آغا خانی اور شمالی علاقہ جات : 22 95
121 ایک اور ناپاک مقصد : 23 95
122 علماء اور طلباء کے اہم اہداف : 23 95
123 ذکر فکر کی طرف توجہ اور ا س کا فائدہ : 24 95
124 مثال سے و ضاحت : 24 95
125 ایک طالب علم کا اشکال اور اُس کا جواب : 24 95
126 بڑے حضرت کی ہر طالب علم اور مرید کو نصیحت : 28 95
127 حج 29 1
128 مفہوم اور فرضیت : 29 127
129 ١۔ احرام : 30 127
130 ٢۔ تلبیہ : 30 127
131 ٣۔ طواف : 31 127
132 ٤۔ حجرِاسود کا بوسہ : 31 127
133 ٥۔ سعی بین ا لصفّاوالمروہ : 31 127
134 ٦۔ وقوفِ عرفہ : 32 127
135 ٧۔ قیامِ مزدلفہ : 32 127
136 ٨۔ منٰی کا قیام اور قربانی : 32 127
137 ٩۔ حلق رأس : 33 127
138 ١٠۔ رمی جمار : 33 127
139 حج کے مصالح 33 127
140 انفرادی مصالح 34 127
141 ا۔ احساسِ عبدیت : 34 127
142 ٢۔ اظہارِمحبوبیت : 34 127
143 ٣۔ جہاد ِزندگی کی تربیت : 35 127
144 ٤۔ ماضی سے وابستگی : 36 127
145 اجتماعی مصالح 37 127
146 ١۔ اخوت کے جذبات کا پیدا ہونا : 37 127
147 ٢۔ غیر فطری عدمِ مساوات کا خاتمہ : 38 127
148 سیاسی مصالح 38 127
149 ١۔ احساسِ مرکزیت : 38 127
150 خالص دینی اور اُخروی مصالح 39 127
151 ١۔ یادِ آخرت : 39 127
152 ٢۔ گناہوں کی معافی : 39 127
153 ٣۔ حج کابدلہ جنت ہے : 40 127
154 ٤۔ حج کی جامعیت : 40 127
155 انتقال پر ملال 41 1
156 جیل سے حضرت اقدس کے نام ایک خط 42 155
157 ١٩٨٢ء میں ساہیوال جیل میں راقم نے ملاقات کی ۔اس موقع پر ایک خط 46 155
158 میجر جنرل (ریٹائرڈ) تجمل حسین 47 155
159 میجر جنرل ریٹائرڈتجمل حسین 48 155
160 سیّد العلماء والطلبائ 50 1
161 اہم اعلان 53 1
162 ولادتِ مسیح علیہ السلام اور ٢٥دسمبرتحقیقی جائزہ 55 1
163 دینی مسائل( جماعت کے احکام ) 60 1
164 جماعت ِثانیہ : 60 163
165 امامت کے فرائض : 61 163
166 عالمی خبریں 64 1
167 مسلم حکمران اور مقامِ عبرت 64 166
168 تنگ نظری کی انتہائ 64 166
Flag Counter