ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2003 |
اكستان |
|
اوائل١٩٤٦ء میںجنرل الیکشن کی ہنگامہ خیزیوں کا زمانہ تھا۔ حضرت شیخ الاسلام مولاناسیّد حسین احمدمدنی نوراللہ مرقدہ مسلم پارلیمنٹری بورڈکے اُمّیدواروںکوکامیاب بنانے کے لیے تمام ہندوستان کا طوفانی دورہ فرمارہے تھے ۔صوبۂ بنگال میں تمام صوبوں کے بعد الیکشن ہوا تھا اس لیے حضرت شیخ الاسلام اواخر فروری میں نواکھالی تشریف لے گئے مختلف مقامات پر حضرت کی تقریروں کا پروگرام بنا ۔آپ کے سفر سے متعلقہ انتظامات راقم الحروف سے متعلق تھے۔ بہر حال ہمارا قافلہ ٣مارچ کی شام گوپال پور تھانہ بیگم گنج پہنچا ۔مولانا عبدالحکیم صدیقی ،مولانا نافع گل ١ اور دیگر چار پشاوری طالب علم ہمراہ تھے۔ چودھری رزاق الحیدر چیئرمین ڈسٹرکٹ بورڈ نواکھالی کے دولت کدہ پر قیام ہوا دوسرے دن ایک عظیم الشان جلسہ میں انتخابی تقریر کرنی تھی نماز عشاء کے بعد ١١بجے طعام تناول کیا اور تقریباً ١٢بجے سونے کی غرض سے آرام فرمانے لگے۔ راقم الحروف پائوں دباتا رہا کچھ دیر کے بعد آپ کو نیند آگئی اور ہم لوگ دوسرے کمرے میں بعض ضروری کاموں کی تکمیل میں مصروف ہو گئے۔تقریباً دوبجے شب کو راقم الحروف اور چودھری محمدمصطفی(ریٹائرڈ) انسپکٹرمدراس کو طلب فرمایا ۔ہم دونوں فوراً حاضرِ خدمت ہوئے ۔ارشاد فرمایاکہ: لو بھئی ! اصحابِ باطن ٢ نے ہندوستان کی تقسیم کا فیصلہ کردیا اور ہندوستان کی تقسیم کے ساتھ بنگال وپنجاب کو بھی تقسیم کر دیا۔ یہ سُن کر راقم الحروف نے عرض کیا کہ اب ہم لوگ جو تقسیم کے مخالف ہیں کیا کریں گے؟ آپ نے جواب دیا کہ ہم لوگ ظاہر کے پابند ہیں اور جس بات کو حق سمجھتے ہیں اس کی تبلیغ پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیںگے۔دوسرے دن گوپال پور کے عظیم الشان جلسہ میں تقسیم کی مضرتوں پر معرکة الآراء اور تاریخی تقریر فرمائی ۔اور ایک سال چارماہ بعد ٣جون ٤٧ء کو لارڈ مائونٹ بیٹن گورنر جنرل ہند کے غیر متوقع اعلان سے اس پیشین گوئی کی حرف بحرف تصدیق ہوگئی۔ (مولانا رشیداحمد صاحب صدیقی ۔کلکتہ) ١ حضرت مولانا سیّد نافع گل صاحب کاکا خیل رحمة اللہ علیہ بہت بڑے مشہور عالم ہیں دارالعلوم دیوبند کے بڑے نامور مدرس ہیں ان کے بڑے بھائی مولانا عُزیرگل صاحب کاکا خیل اسیرِ مالٹا حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ کے ساتھ قید بھی رہے اور تحریک کے بڑے لوگوں میں تھے ان کا مزار سخاکوٹ مردان مالاکنڈ ایجنسی میں ہے، حضرت مولانا عزیرگل صاحب رحمة اللہ علیہ اور حضرت مولانا نافع گل صاحب رحمة اللہ علیہ دونوں بڑے لوگ ہیں اور وہاں حضرت کے پاس رہتے تھے یہ ان کے بارے میں لکھا ہے۔ ٢ کس نے کیا؟ کیا لفظ ہے یہاں ''اصحابِ باطن''۔خواب کا ذکر اس میں کہیں ہے کہ'' میں نے خواب دیکھا '' یہ جملہ بھی نہیں ہے اور نبی علیہ الصلوةو السلام کا ذکر بھی نہیں ہے کہ میںنے ان کو دیکھا ۔ بس اصحابِ باطن کا ذکر ہے۔