Deobandi Books

حضرت مولانا اسماعیل ریحان صاحب ۔ کالم ۔ ضرب مؤمن ۔ 2016

29 - 52
 ترے گھر میں 
   گھر آکر انسان کو بڑاسکون ملتاہے۔دن بھر دفتر اورکاروبار کی بھاگ دوڑ کے بعد آدمی جب گھر لوٹتا ہے تواسے ایک گونہ طمانیت کااحساس ہوتاہے۔ اب سر پر کاموں کابوجھ نہیں ہے۔اب وہ گھر میں بادشاہ ہے۔ اس کے اشارے پر پانی ،چائے ،کھانا،سب حاضر۔گھرو الے حکم بجالاتے ہیں اوروہ آرام کرتاہے ۔یہ الگ بات ہے کہ خانگی زندگی مسائل اورالجھنوں سے خالی نہیں رہ سکتی ،اس لیے گھر آکر سکون کے کچھ لمحے پانے کے بعد کچھ الگ ذمہ داریاں نبھانابھی انسان کافرض بنتاہے۔ مگر گھر بہرحال گھر ہوتاہے۔اس کی حقیقت اس وقت پتاچلتی ہے جب انسان  سفر کی کلفتوں سے گھبراتاہے ۔ ایسے میں گھربہت یادآتاہے۔ 
  ہم انسان اپنی ولادت سے موت تک دراصل ایک بڑے سفر پر نکلے ہوئے ہیں۔ اس سفر کاانجام اللہ بخیر کرے،یہ دعابھی ہونی چاہیے اورکوشش بھی۔ یہ حقیقت بہرحال ملحوظ رہنی چاہیے کہ دنیاکی یہ زندگی عارضی ہے ۔اس کاانجام بہت جلد ہوجائے گا۔ یہ ہماری منزل نہیں ۔منزل آگے بہت دورہے۔اس وقت تک چاہے ہم کسی بھی حال میں ہوں،ہم مسافر ہیں۔اسی لیے حدیث میں آیاہے:
’’دنیا میں اس طرح رہوجیسے مسافر یاراہ چلتا آدمی۔‘‘{مشکوٰۃ}
توجب ہم ہیں ہی ہر وقت سفرمیں تواس حالت ِ تغیر وتبدل میں بھلادلی سکون کیسے میسرآسکتاہے۔ گھر ہویابازار،دل کوٹٹولیے توسچی طمانیت کہیں نہیں ملتی۔ ہاں ایک جگہ ہے جہاں سکون ہی سکون ہے،جہاں جاکرمضطرب دل کوکچھ دیر کے لیے واقعی قرارآجاتاہے۔ وہ ہے اللہ کاگھر ۔وہ ہے مسجد جہاں ہر آن رحمتوں کانزول ہوتاہے ۔مساجد وہ گھرہیں جن کی عزت وتوقیر کاحکم اللہ نے دیاہے
اورمومن کووہاں ایسی دلجمعی نصیب ہوتی ہے جیسے  صحر انورد کو کسی گھنے پیڑ کی ٹھنڈی چھاؤں میں۔
آتا ہے سکوں دل کومیسرترے گھر میں 
سب ادنیٰ واعلیٰ ہیں برابر ترے گھر میں
   رمضان کے مہینے کواللہ نے جہاں دیگر بے پایاں رحمتوں اوربرکتوں کامظہر بنایاہے ،وہاں اس مہینے کومساجد کی آبادی ومعموری کاذریعہ بھی بنادیاہے۔ خصوصاً اس کے آخری عشرے میں اعتکاف کومسنون قراردے کر شریعت نے مساجدمیں جاکرپڑجانے ،اللہ سے لولگانے ،اس کی یاد کودل میں بسانے اوراس کی خاطر دنیاومافیہا کوبھلادینے کی ایک مشق اس اُمت کوعطافرمادی ہے۔
  حضورصلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف پابندی سے کیاکرتے تھے۔آپ کے ساتھ صحابہ کرام بھی یہ سنت اداکرتے تھے۔ اس لیے اعتکاف کو سنتِ موکدہ علی الکفایۃ کہاجاتاہے ،یعنی اگر محلے میں سے کچھ لوگ بھی مسجد کواعتکاف سے آباد کردیں تو سب کی طرف سے سنت اداہوجائے گی۔ لیکن اگرکوئی بھی اس کی ہمت نہ کرے توسب گناہ گارہوں گے۔
  ماہِ رمضان کاآخری عشرہ آگ سے آزادی کاعشر ہ ہے۔اس نعمت کوحاصل کرنے کا بہتر ین ذریعہ اعتکاف ہے۔ اسی آخری عشرے میں شبِ قدر آتی ہے۔ اعتکاف کرنے والااس شب کی عبادت کاعظیم شرف بھی حاصل کرلیتاہے ،کیونکہ اگر وہ آرام کررہاہو،تب بھی اس کاہرپل عبادت شمار ہوتاہے۔
  اعتکاف کا ذوق وشوق دلانے والے ہمارے اکابر کے واقعات بکثرت ہیں،ایک حضرت شیخ الاسلام مولاناحسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے سلہٹ کے اعتکاف کے حالات پڑھے جائیں تو ایمان تازہ ہوجاتاہے۔مگران اکابر میں سے شیخ الحدیث حضرت مولانامحمد زکریامہاجر مدنی رحمہ اللہ نے جس والہانہ اورعاشقانہ شان سے اعتکاف کی سنت کو رواج دیا، اس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔ حضرت ایک طویل مدت تک مظاہرعلوم سہارنپور کی مسجد میں اعتکاف کرتے رہے۔ دوردورسے سالکین ،معتقدین ،علماء ،طلبہ اورتبلیغی ساتھی وہاں اعتکاف کے لیے جمع ہوتے تھے۔ حضرت شیخ اکثر پورے مہینے کااعتکاف کرتے تھے ،اس لیے پورے مہینے مظاہر علوم میں اہل اللہ کااجتماع رہتاتھا۔خصوصاً آخری دس دنوں کی رونق قابلِ دیدہوتی تھی۔ مدینہ منورہ ہجرت کے بعد بھی حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے اعتکاف کی سنت کوزندہ کرنے اور اسے تعلق مع اللہ کاذریعہ بنانے کے مشن کوجاری رکھااوربرطانیہ سمیت دنیا کے متعددممالک کے دورے بھی کیے۔پاکستان بھی تشریف لائے اور فیصل آباد میں اعتکاف کیاجس کی یادیں حضرت کے خلفاء سے ہم آج بھی سنتے رہتے ہیں۔ہر سال کی طرح اس باربھی حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے خلفاء اور اصحابِ سلسلہ اسی عزم وہمت کے ساتھ رمضان کے آخری عشرے کو پوری طرح وصول کرنے کے لیے کمربستہ ہیں۔ جامعہ معہدالخلیل الاسلامی کراچی، جامعہ زکریاراول پنڈی ،خانقاہِ کربوغہ شریف اورجامعۃ الرشید سمیت کتنی ہی مساجد میںاہلِ دل کشاں کشاں جمع ہورہے ہیں۔حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے سلسلے کے بزرگوں کے حلقوں میں بھی اعتکاف کاخاص اہتمام ہورہاہے۔اہلِ حق کے تمام سلاسل کے مشائخ اپنی اپنی مساجد میں اس سنت کے احیاء کے لیے کوشاں ہیں۔ائمہ دین ہمارے معاشرے کی دینی تربیت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔جن ائمہ حضرات نے سنجیدگی اورتفکر کے ساتھ اپنے علاقے میں دینی فضابنانے کی کوشش کی ہے اوراس سلسلے میں اعتکاف کی اہمیت کو خودبھی پہچاناہے اورنمازیوںکوبھی اس کی قدروقیمت کااحساس دلایاہے،ان کی مساجد میں ایمان اوراعمال کی بہاریں آج دیکھنے کے لائق ہیں۔اب اصحابِ نظرہرسانس قیمتی بنانے کے لیے مساجد میں بسترڈال رہے ہیں۔ اہلِ دل گھر بار سے ناتہ توڑ کررب سے رشتہ جوڑنے کے لیے قدم بڑھارہے ہیں۔یہ وہ سعادت مند لوگ ہیں جو ایک دوسرے کوپیچھے چھوڑنے کی دوڑ سے الگ ہوکر ،اللہ کے گھر میں آگئے ہیں ۔نفس وشیطان کی چالوں سے بچنے کا یہی بہترین ذریعہ تھاجسے انہوں نے اختیارکرکے اپنی راہ کھری کرلی ہے۔
کچھ دیر توشیطان کی چالوں سے بچیں گے
یہ سوچ کرآجاتے ہیں اکثر ترے گھر میں 
  اللہ کومنانا ہی اب ان کی منشاء ہے۔یہی ان کاپہلا اورآخری مقصد ہے۔انہیں یہ حقیقت خوب سمجھ آگئی ہے کہ زندگی کے سفر میں ایک یہی گھر ہے جہاں سکون کاخزانہ پوشید ہ ہے ،جہاں سے روحانی قوت نصیب ہوتی ہے اورجہاں سے پورے سال کے لیے توانائی کاذخیرہ مل سکتاہے۔مبارک ہیں یہ لوگ جو رمضان کے آخری دنوں کو اعتکاف کی سنت میں گزارکر پورے مہینے کی تمام رحمتیں اوربرکتیں سمیٹ لیتے ہیں۔ 
  اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ وہ معتکفین کی عبادت اوراعتکاف کے منتظمین کی خدمت کوقبول کرلے۔ان کی دعاؤں میں پوری اُمت کاحصہ فرمائے اوراس اعتکاف کوزندگیوں کے بدلنے اورمعاشرے کے سدھارکاذریعہ بنالے۔
 19-06-2016
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 امریکا کیا چاہتاہے 1 1
3 دس محرم کاسبق 2 1
4 موسمِ سرمااورمتاثرینِ حوادث 3 1
5 انتخابی نتائج اورمسئلہ کشمیر 4 1
6 حجاج کرام ۔قوم کاسرمایہ 5 1
7 پاکستان کادل 6 1
8 فنا فی القرآن 7 1
9 میرے وطن کابانکاسپاہی 8 1
10 دفاعِ حرمین 9 1
11 دیر نہ کریں 10 1
12 نیاہجری سال 11 1
13 جاپان،چین اورپاکستان 12 1
14 عیدالاضحیٰ۔مسرت کادن 13 1
15 شام پر روسی بمباری…وہی مجرم ،وہی منصف 14 1
16 سانحۂ کوئٹہ۔صحیح تجزیے اوردرست اقدامات کی ضرورت 15 1
17 اےطالبانِ علوم دین 16 1
18 پاکستان میں دہشت گردی کا ذمہ دارکون؟ 17 1
19 آگئی چھٹیاں 18 1
20 کشمیر کاالمیہ 19 1
21 پاک بھارت تعلقات 20 1
22 کوئی ایسا دُکھ نہ دیکھے 21 1
23 یوم آزادی 22 1
24 کچھ تواحساس کریں 23 1
25 اگرتودل سے چاہے 24 1
26 جنوبی ایشیااورافغانستان ۔کیا امن قائم ہوپائے گا 25 1
27 پانامہ لیکس …کرپشن زدہ معاشرے کی ایک گھناؤنی تصویر 26 1
28 بھارت ۔جنگ سے پہلے شکست کے آثار 27 1
29 چورمچائے شور 28 1
30 ترے گھر میں 29 1
31 حلب کاالمیہ 30 1
32 عید کامقصد 31 1
33 احتساب کی ضرورت 32 1
34 استحکام مدارس وپاکستان 33 1
35 جنید جمشید کی رحلت 34 1
36 کراچی میں قیام امن کی نئی امیدیں 35 1
37 بے سود کش مکش 36 1
38 معجم،گوگل اورفلسطین کانقشہ 37 1
39 لاٹھی گولی کی سرکار 39 1
40 پاکستان میں راؔ کی مداخلت 40 1
41 رعدا لشمال 41 1
42 ماہِ رمضان پھر آیا 42 1
43 سالِ گزشتہ کی یادیں 43 1
44 ایک سو آٹھ سال کاسفر 44 1
45 اسوۂ حسنہ اورہمارامعاشرہ 45 1
46 رمضان اورمہنگائی کا کوڑا 46 1
47 امریکا افغانستان میں کب تک رہے گا؟ 47 1
48 ممتازاُمتی 48 1
49 نیا تعلیمی سال…اپنااحتساب 49 1
50 رمضان کے بعد 50 1
51 ٹرمپ کی کامیابی۔کیا ہونے والاہے 51 1
52 سفرِ حج ۔کل کی صعوبتیں اورآج کی سہولتیں 52 1
Flag Counter