تمہاری خدمت میں رہنا چاہتا ہو ں۔ اس نے منظور کرلیا۔ میں اسکی خدمت میں رہا۔ وہ بہترین آدمی تھا۔جب اسکی بھی وفات ہونے لگی تو میں نے پوچھا کہ میں اب کہاں جاؤں؟ تو اس نے کہا کہ فلاں شخص ”نصیبین“ میں ہے، اس کے پاس چلے جانا۔
میں اسکے مرنے کے بعد نصیبین چلا گیا اور اس شخص کو اپناقصہ سنایا،خدمت میں رہنے کی درخواست کی جو کہ منظور ہو گئی۔ وہ بھی اچھا آدمی تھا۔ جب اسکے مرنے کا وقت آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ میں ابکہاں جاؤں؟ اس نے کہا : ”غموریا“میں فلاں شخص کے پاس چلے جانا۔ میں وہاں چلاگیا۔ وہاں بھی اس طرح قصہ پیش آیا۔ وہاں جاکر میں نے کام شروع کردیا اور میرے پاس چند ایک گائے اور کچھ بکریاں جمع ہو گئیں۔ جب اسکی بھی موت کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اب میں کہاں جاؤں؟ تو اس نے کہاکہ اب زمین پر کوئی شخص ایسا نہیں جو کہ ہمارے طریقہ پر چل رہا ہوالبتہ نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے کا زمانہ قریب ہے، وہ دینِ ابراہیمی پر عرب میں پیدا ہوں گے، انکی ہجرت کی جگہ ایسی زمین ہے جہاں کھجوریں کثرت سے پیدا ہوتی ہیں، اس زمین کے دونوں جانب کنکریلی زمین ہے، آپہدیہ نوش فرمائیں گے اور صدقہ قبول نہ فرمائیںگے، ان کے دونوں شانوں (کندھوں) کے درمیان مہرِ نبوت ہوگی۔ اگر تجھ سے ہو سکے تو انکی سر زمین پر پہنچ جا۔
اس کے مرنے کے بعد قبیلہ بنو کلب کے چند تاجر وہاں سے گزرے تو میںنے ان سے کہا کہ اگر تم مجھے اپنے ساتھ عرب لے چلو تو میں بدلہ میں تمہیں گائے اور بکریاں دے دوں گا۔ انہوں نے قبول کر لیا اور مجھے اپنے ساتھ مکہ مکرمہ لے آئے۔ میں نے گائے اور بکریاں ان کو دے دیں مگر انہوں نے مجھ پر یہ ظلم کیا کہ مجھے اپنا غلام ظاہر کیا اور مکہ مکرمہ میں بیچ دیا۔ بنو قریظہ کے ایک یہودی نے مجھے خرید لیا اور اپنے ساتھ مدینہ منورہ لے آیا۔ مدینہ منورہ پہنچتے ہی میں پہچان گیا کہ یہ وہی جگہ ہے