بَابُ مَا جَاءَ فِي حِجَامَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سینگیا ں لگوانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ : سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، فَقَالَ : احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ ، فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ ، وَكَلَّمَ أَهْلَهُ فَوَضَعُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ وَقَالَ : إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ ، أَوْ إِنَّ مِنْ أَمْثَلِ دَوَائِكُمُ الْحِجَامَةَ.
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طیبہ سے سینگیاں لگوائیں اور اسکو دو صاع کھانا دینے کا حکم فرمایا۔ آپ نے ان کے مالکوں سے انکی سفارش کی تو انہوں نے اسکے ذمہ جومحصول تھا اس میں کمی کرا دی۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایاکہ سینگی لگوانا بہترین دوا ہے۔
زبدۃ:
1: اس حدیث سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں:
(۱): ایک یہ کہ سینگی لگوانا جائز ہے۔
(۲): دوسرا یہ کہسینگی میں خون چوسنا پڑتا ہے اور خون چوستے وقت حلق سے نیچے اتر جانے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لیے اسمیں احتیاط کی بہت ضرورت ہے۔ احادیث میں بھی اسی بناء پراس پیشہ کی مذمت آئی ہےمگر اس کے باوجود اس پیشہ پر اجرت اور مزدوری لینا جائز ہے جیسا کہ اسی حدیث میں وارد ہے کہ آپ نے ابوطیبہ کودوصاع اجرت عنایت فرمائی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سینگی لگوائی اور مجھے حکم دیا کہ میں اسکی مزدوری ادا کروں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر سینگی پر اجرت حرام ہوتی تو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ادا فرماتے؟