جسکی نشاندہی غموریا کے پادری نے کی تھی۔ میں مدینہ میںرہتا رہا کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ تشریف لے آئے۔
حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم قبا میں تشریف فرما تھے۔ اطلاع ملتے ہی جو کچھ میرے پاس تھا میں لے کر حاضر ہوگیااور عرض کیا کہ یہ صدقہ کا مال ہے۔ تو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تناول نہ فرمایا اورصحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایاکہ تم کھالو!میں خوش ہو گیاکہ ایک علامت تو پوری ہوئی۔ پھر مدینہ آگیا اور کچھ جمع کیا۔ پھر خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم بھی مدینہ تشریف لا چکے تھے۔میں نے کچھ کھجوریں اورکھانا پیش کیا اور عرض کیا کہ یہہدیہ ہے۔تو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے تناول فرمایا۔میں نے دل میں کہا کہ دوسری علامت بھی پوری ہوگئی۔اسکے بعدمیں ایک مرتبہ پھر حاضر ہوا۔ اسوقت حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں کسی صحابی کے جنازے کے لیے تشریف فرما تھے۔ میں نے سلام کیا اور پشت کی طرف گھومنے لگا۔ آپ میری منشاء سمجھ گئے اور کمر سے چادر کو ہٹا دیا۔ میں نے مہرِ نبوت کو دیکھا اور جوش میں اس پر جھک گیا۔ اس کو چومتا رہا اور روتا رہا۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے آؤ میں سامنے آیا اور سارا قصہ سنایا۔
اس کے بعد اپنی غلامی میں پھنسا رہا۔ ایک مرتبہ حضرت پاک صلی اللہ علیہوسلم نے فرمایا کہ اپنے مالک سے مکاتبت کا معاملہ کر لو۔ میں نے اس سے معاملہ طے کیا اور بدلِ کتابت دو چیزیں مقرر ہوئیں۔ایکیہ کہ چالیس اوقیہ سونا نقد (ایک اوقیہ چالیس درہم کا اور ایک درہم تینیا چار ماشہ کا ہوتا ہے ) دوسرییہ کہ تین سو کھجور کے درخت لگاؤ ں اور انکی پرورش کروں اور پھل لانے تک ان کی خبر گیری کرتا رہوں۔
چنانچہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے کھجوریں