بَابُ صَلاَةِ الضُّحٰى
باب : حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی چاشت کی نماز کے بیان میں
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاذَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحٰى ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ: حضرت معاذہ فرماتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین(میری امی) عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں آپ چار رکعت ادافرماتے تھےاور کبھی آپ اس سے بھی زیادہ جتنی رکعات خدا چاہتا،پڑھ لیا کرتے تھے۔
حدیث: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی چھ رکعات پڑھا کرتے تھے۔
حدیث: حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ فتحِ مکہ کے روز حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائےاور آپ نے غسل فرماکر آٹھ رکعاتنماز ادا فرمائی۔ میں نے ان آٹھ رکعات کے علاوہ آپ کو کبھی اتنی مختصر نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا لیکن اس اختصار کے باوجود آپ رکوع اور سجو د نہایت اہتمام سے پورے فرمارہے تھے۔
زبدۃ:
1: سورج نکلنے کے بارہپندرہ منٹ بعد دو یا چار رکعت نماز پڑھی جاتی ہے جس کا نام ”نماز اشراق“ ہے اور سورج نکلنے کے تقریبا دو اڑھائی گھنٹے کےبعدجو نماز اداکی جاتی ہے اسکو ”چاشت“ یا ”ضحیٰ“ کی نماز کہتے ہیں۔