گیا۔مجھے باپ نے ایک مرتبہ اپنی جائیداد کی حفاظت کے لیے بھیجا۔راستہ میں میرا گزر نصاریٰ کے گرجا پر ہوا۔میں سیر کے لیے اندر چلا گیا، انکو نماز پڑھتے دیکھاتووہ مجھے پسند آگئی۔میں شام تک ادھر ہیرہا اور ان سے پوچھا کہ تمہارے دین کا مرکز کہاں ہے؟انہوں نے بتایا کہ شام میں ہے۔
میں رات واپس گھر آیا تو گھر والوں نے مجھ سے پوچھا کہ تو تمام دن کہاں رہا؟ میں نے سارا قصہ سنایا۔ میرے باپ نے مجھے سمجھایاکہ بیٹا وہ دین اچھا نہیں، اچھا دین مجوسیت ہی ہے مگر میں اپنی رائے پر قائم رہا۔ باپ کو خدشہ ہو گیا کہ میں کہیں چلا نہ جاؤں تو باپ نے میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر مجھے بند کر دیا۔ میں نے عیسائیوں کو پیغام بھیجا کہ جب شام سے سوداگراور تاجر آئیں تو مجھے مطلع کریں۔چنانچہ کچھ تاجر آئے تو انہوں نے مجھے مطلع کردیا۔ جب وہ واپس جانے لگے تو میں نے پاؤں کی بیڑیاں کاٹ ڈالیں اور ان کے ساتھ ملک شام چلا گیا۔
وہاں جاکر میں نے تحقیق کی کہیہاں پر اس مذہبِ عیسائیت کا سب سے بڑاعالم کون ہے؟ تو لوگوں نے بتلایاکہ فلاں گرجے کا فلاں بشپ بڑا ماہر ہے۔ میں اس کے پاس چلا گیا اور بتایا کہ مجھے تمہارے دینمیں رغبت ہے اور تمہارے پاس رہ کر تمہاری خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ اسنے منظور کرلیا مگر وہ اچھاآدمی نہ تھا، بہت بخیل اور زر پرست تھا۔ جو مال جمع ہوتاوہ اپنے خزانہ میں جمع کرلیتا اور غریبوں پر خرچ نہ کرتا۔ جب یہ مر گیا تو اسکی جگہ دوسرا راہب بٹھایا گیا۔یہ اس سے بہتر تھا، دنیا سے بے رغبت تھا۔ میں اسکی خدمت میں رہنے لگا۔ جب اسکے مرنے کا وقت قریب آیاتو میں نےاس سے کہا کہ مجھے کسی کے پاس رہنے کی وصیت کرتے جاؤ!تو اسنے کہا کہ میرے طریقہ پر دنیا میں صرف ایک شخص ہے جو کہ ”موصل“ میں رہتا ہے، تم اس کے پاس چلے جانا۔ اس کے مرنے کے بعدمیں موصل چلا گیا اور اس راہب کو سارا قصہ سنایا اور بتایا کہ میں