بَابُ مَا جَاءَ فِي عِبَادَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ : أَتَتَكَلَّفُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ قَالَ : أَفَلاَ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا.
ترجمہ:حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نےاس قدر لمبی نفل نماز پڑھی کہ آپ کے قدم مبارک میں ورم آگیا۔ آپ سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: حضرت! آپ اس قدر تکلیفاٹھاتےہیں اور مشقت برداشت فرماتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اگلی پچھلی لغزشیں تو معاف فرمادی ہیں۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (کہ جب اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اتنا بڑا احسان فرمایاہے) تو کیا میں اس کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟
حضرت اسودبن یزیدفرماتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین امی عائشہ رضی اللہ عنہاسے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھاکہ رات کو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلمکا کیا معمول تھا؟تو (میری امی )حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ رات کےپہلے حصہ میں سو جاتے، پھر قیام فرماتے تھے،اس کے بعد جب سحری کا وقت قریب ہوتاتو آپ وتر ادا فرماتے، پھر آپ اپنے بستر پر تشریف لے آتے،پھر اگر آپ کو رغبت ہوتی تواپنی اہلیہ کے ساتھ صحبت فرماتے،پھر جب اذان ہوتی توآپ تیزی سے اٹھتے،اگر آپ حالت جنابت میں ہوتےتوغسل فرماتےورنہ صرف وضوفرما لیتے۔
زبدۃ: