پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سرخ لباس زیب تن فرما رکھا تھا اس کے بارے میں بعض محدثین کی رائے یہ ہے کہ یہ سرخ دھاری دار تھا ،نہ کہ خالص گہرا سرخ رنگ کا۔
2: اس باب کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے (خواب میںیا معراج کی رات) بعض حضرات انبیاءعلیہم السلام کو دیکھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام چھریرے اور پتلے بدن والے تھے جیسا کہ شنوءہ قبیلہ کے لوگ ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت عروہ بن مسعود کے مشابہ تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کودیکھا تو وہ میرے ہی زیادہ مشابہ تھے، حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھی دیکھا وہ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے زیادہ مشابہ تھے۔
اس روایت کا مقصد یہ تھا کہ اگر کوئی شخص اپنے جدِ اعلیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا چاہے تو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لے۔
3: حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑی مبارک اور آنکھ مبارک کا تذکرہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میںیوں ہے:
كَانَ أَشْكَلَ الْعَيْنِ.
یعنی آپ کی آنکھ کی سفیدی میں سرخ ڈوریاں تھی جو کہ حسن کی علامت ہے۔
مَنْهُوسَ الْعَقِبِ.
اور ایڑی مبارک پر گوشت کم تھا یعنی زیادہ گوشت نہ تھا۔
4: جو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اچانک دیکھتا تو اس پر رعب طاری ہو جاتا۔ رعب دراصل ان مخصوص چیزوں میں سے تھا جو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوئی تھیں۔اسکی ظاہری وجہ تو یہ ہے کہ حسن و جمال میں فطری طور پر رعب ہوتا ہے اورمزید جب اسکے ساتھ کمالات بھی شامل ہوجائیں تو کیا کہنا، اور باطنی وجہ