گہرے تھے اور قدم ہموار تھے کہ ان پر پانی ڈالو تو وہ بہہ جائے، جب آپ چلتے تو قدم اٹھا کر چلتے، جب قدم رکھتے تو جھک کر، جب آپچلتے تو وقار کے ساتھ آپ کی چال مبارک تیز تھی، جب چلتے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ڈھلوان میں اتر رہے ہیں، جب آپ کسی کی طرف توجہ فرماتے تو کامل توجہ فرماتے، آپ کی نظر مبارک نیچی رہتی، آپ کی نگاہ بہ نسبت آسمان کے زمین کی طرف زیادہ رہتی تھییعنی اکثر زمین کی طرف دیکھتے (اگرچہ بسا اوقات وحی کے انتظار میں آسمان کی طرف بھینظر اٹھا تے تھے ) آپ کی عادت مبارک گوشہ چشم سے دیکھنےکی تھی، غایت شرم وحیا سے آنکھ بھر کر نہیں دیکھتے تھے، چلنے میں صحابہ رضی اللہ عنہم کو آگے رکھتے اور خود پیچھے رہتے، جس سے ملتے سلام کرنے میں خود پہل فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، يَعْنِي ابْنَ سَوَارٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ إِضْحَيَانٍ، وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَإِلَى الْقَمَرِ ، فَلَهُوَ عِنْدِي أَحْسَنُ مِنَ الْقَمَرِ.
ترجمہ: حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو چاندنی رات میں دیکھا،آپ اسوقت سرخ لباس زیب تن فرمائے ہوئے تھے،میں کبھی چاند کو دیکھتا اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو، بالآخر میں اس نتیجہ پر پہنچاکہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم چاند سے کہیں زیادہ خوبصورت ہیں۔
زبدۃ:
اس باب کےتحت چند ایک باتیں قابلِ ملاحظہ ہیں:
1: بعض روایات میں آپ کے سرخ لباس زیب تن فرمانے کا ذکرہے۔اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ مرد کے لیے سرخ زعفرانی رنگ تو مکروہ تحریمی ہےاور ویسے سرخ رنگ کا استعمال جائز ہےمگر زیادہ شوخ ہونے کی وجہ سے نا پسندیدہ ہے اور حضرت