قائم کر سکوں۔چنانچہ انہوں نے بیان کیا کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات وصفات کے اعتبار سے عظیم تھے اور دوسروں کی نگاہ میں عظیم مرتبہ والے تھے، آپ کا چہرہ مبارک چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا تھا، آپ درمیانہقد سے ذرا لمبے اور لمبے قد سے ذرا پست قد تھے (یعنیآپ کا قد درمیانہ تھا) آپ کا سر مبارک اعتدال کے ساتھ بڑا تھا، بال مبارک قدرے گھنگھریالے تھے ، سر مبارک میں اتفاقاً مانگ نکل آتی تو نکال لیتے وگرنہ خود مانگ نکالنے کا اہتمام نہ فرماتے تھے (یعنی زیادہتکلف نہ فرماتے تھے )جس زمانہ میں بال مبارک زیادہ لمبے ہوتے تو کان کی لو سے تجاوز کر جاتے، رنگ مبارک خوبصورت چمک دار تھا، پیشانی مبارک کشادہ تھی، ابرو مبارک باریک خم دار گنجان تھے، دونوں ابرو جدا جدا تھے، ایک دوسرے سے ملے ہوئے نہ تھے، دونوں کے درمیان باریک رگ تھی جو غصہ کے وقت ابھر آتی تھی، ناک مبارک بلندی مائل تھی، اس پر ایک نوردار چمک تھی، جو شخص غور سے نہ دیکھتاتو وہ آپ کی ناک کو اونچا سمجھتا تھا،ڈاڑھی مبارک گھنی، رخسار مبارک ہموار،دہن مبارک کشادہ تھا (یعنی منہ مبارک تنگ نہ تھا) سامنےکے دانتوں میں قدرے کشادگی تھی، سینہ مبارک سے ناف مبارک تک بالوں کی ایک لمبی لکیر تھی، گردن مبارک خوبصورتی میں مورتی کی گردن کی طرح اور صفائی اور چمک میں چاندنی کی طرح تھی، معتدل جسم، پُرگوشت گٹھا ہوا بدن مبارک، پیٹ اور سینہ مبارک برابر تھے، سینہ مبارک کشادہ تھا، دونوں کندھوں کے درمیان قدرے فاصلہ تھا، اعضاء کے جوڑوں کی ہڈیاں بڑی اور مضبوط تھیں، جسم مبارک کا کپڑوں سے خالی حصہ بڑا چمکداراور نورانی تھا، ایک باریک لکیر کے سوا چھاتی مبارک اور پیٹ مبارک پر بال نہیں تھے، دونوں بازؤوں، کندھوں اور سینےکے بالائی حصہ پر بال تھے، دونوں کلائیاں لمبی اور ہتھیلیاں کشادہ تھیں، دونوں ہاتھ اور پاؤں پر گوشت تھے، ہاتھ اور پاؤں مبارک کی انگلیاں مناسب لمبی تھیں، تلوے قدرے