کرادینا چاہتے تھے مگر حضرت عباس رضی اللہ عنہ انتہائی منتظم مزاج اور دوراندیش تھے اور ہر مال کو نہایت احتیاط سے آہستہآہستہ خرچ کرنے کے حق میں تھے اور ضرورت کے مواقع کے لیے ذخیرہ فراہم رکھنا چاہتے تھے۔ تولیت مشترک ہونے کی وجہ سے کوئی کام کرنے سے پہلے دونوں کا متفق ہونا ضروری تھا۔اس لیے اس جائیداد سے حاصل ہونے والی آمدنی میں دونوں حضرات کا اکثر جھگڑارہتا تھا۔ تو یہ دونوں خلیفہ وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تاکہ یہ روز کا جھگڑا ختم ہوجائے اور وہ ان کے درمیا ن اس زمین اور باغ کو تقسیم فرمادیں تاکہ ہر آدمی الگ حصہ کا متولی ہو اور اپنی مرضی کے مطابق آمدنی کو تقسیم کرسکے، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم کو گواہ بناکر یہ ثابت فرمایا کہ نبی کا کوئی وارث نہیں ہوتا، اس لیے اس زمین کےتموارث نہیں ہو۔
رہا مسئلہ تولیت کا کہ زمین اور باغ تقسیم کرکے دونوں کو الگ الگ حصہ کا متولی بنادیتے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کا بھی انکار فرمادیا۔آپ کا نظریہ یہ تھا کہ اگر میں نے آجصرف بطورِ متولی ہی تمہارے درمیان زمین اور باغات تقسیم کردیے تو ممکن ہے کہ کل تمہاری اولادیں اسکو وراثت سمجھ کر تقسیم کرنا شروع کردیں۔ اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صاف صاف فرمایا کہ اگر تمدونوں حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہونے کی حیثیت سے اسی طرح مشترکہ تولیت کو نبھاسکتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ میں کسی دوسرے شخص کو اس کا متولی بنا دیتا ہوں۔
حدیث:
حضرتام المؤمنین(میری امی)عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہم انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑ جاتے ہیںوہ صدقہ ہوتا ہے۔