1: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چونکہ اس مسئلہ کا علم نہیں تھا اس لیے انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اپنے والد حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کا مطالبہ کیا تھا مگر جب انکو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اصل مسئلہ سمجھا دیا تو پھر انہوں نے اس مسئلہ پر کبھی بات نہیں فرمائی بلکہ خاموش ہوگئیں، کوئی مطالبہ نہ کیا حتیٰ کہ آپ رضی اللہ عنہا اپنے خالقِ حقیقی سے جاملیں۔
2: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسئلہ شرعیہ بیان فرمایاتھا کہ میرے بعد میرے اہل وعیال وارث بنیں گے، اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی جو اپنا تھوڑا بہت سامان تھا بیت المال میں جمع فرمادیا تھا اور ان کا بھی کوئی وارث نہیں بنا۔
حدیث : حضرت ابو البختری فرماتے ہیں کہ حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما دونوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جھگڑتے ہوئے آئے۔ دونوں میں سے ہر ایک دوسرے پر بد نظمی کا اعتراض کر رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اکابر صحابہ حضرت طلحہ ، حضرت زبیر ، حضرت عبدالرحمن بن عوفاور حضرت سعد رضی اللہ عنہم کو (جو اسوقت آپ کے پاس موجود تھے) قسم دلا کر پوچھا کہ تم نے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا کہ نبیکا مال صدقہ ہوتا ہے سوائے اس مال کے جو اسنے خود کھالیا یا اپنے اہل و عیال کو کھلا دیا، کیونکہ ہم انبیاء کی جماعت کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے۔ اس حدیث میں طویل قصہ ہے۔
زبدۃ:
حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما ایک مشترکہ باغ اور زمین کے متولی تھے اور دونوں کے مزاج مختلف تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نہایت فیاض، سخی، زاہد اور متوکل تھے، حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے طرزکے موافق جو آیافوراً تقسیم