فرمایا: ہمارے لیے پکے پکے دانےچھانٹ کرلے آتے، تو انہوں نے عرض کیا کہ حضر ت میں یہ ساری اس لیے لایا ہوں کہ آپ اپنی پسند کے دانے پکے ہوئے یا جو پکنے کے قریب ہوں چھانٹ کر لے لیں۔چنانچہ مہمانوں نے کھجوریں کھائیں اور پانی پیا۔ پھر حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ پکی ہوئی کھجوریں ، ٹھنڈا پانی اور ٹھنڈا سایہ وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن تم سے پوچھا جائے گا۔ پھر حضرت ابوالہیثم اٹھے کہ مہمانوں کے لیے کھانا تیار کریں تو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے لیے دودھ دینے والا جانور ذبح نہ کرنا۔ لہٰذا انہوں نے بکری کا بچہ ذبح کیا اور کھانا تیار کرکے لےآئے۔ ان حضرات نے کھانا کھایا۔حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی خادم بھی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جب ہمارے پاس قیدی غلام آئیں تو تم بھی ہمارے پاس آنا۔ اتفاقاً ایک جگہ سے دو غلا م آگئے تو حضرت ابوالہیثم بھی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ ان دونوں میں سے جس غلام کوچاہو منتخب کرلو۔ انہوں نے عرض کیا: حضرت آپ ہی میرے لیے منتخب فرمادیں۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاکہ مشورہ دینے والا امین ہوتا ہے،اس لیے میں بھی امین ہونے کی حیثیت سے فلاں غلام کو پسند کرتا ہوں۔ اس لیے کہ میں نے دیکھا ہے کہ وہ نماز پڑھتا ہے لیکن میں تمہیں اسکے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ پھر ابوالہیثم اپنے غلام کو لے کر آئے اور اپنی بیوی سے سارا واقعہ بیان کیا اور حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی سنایا تو انکی بیوی نے کہا: حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک کا حق تم ادا نہ کرسکوگے، اس لیےبہتر یہی ہے کہ تم اسکو آزاد ہی کردو۔ چنانچہ انہوں نے اسکو آزاد کردیا۔ پھر جب حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جانثار صحابی کے واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور اسکے جانشین کو