2: ابوطیبہ عبد ماذون تھے۔ عبد ماذوناسغلام کو کہتے ہیں کہ جس کا مالک یہ کہہ دے کہ روزانہ تم کما کر اتنی رقم ہمیں دیا کرو،باقی زیادہ سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔انکے مالک نے انکا روزانہ کا محصول تین صاعمقرر کیاہواتھا۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے سفارش فرماکران کا محصول تین صاع یومیہ کے بجائے دو صاع کروادیا۔ ایک صاع تقریباً چار سیر کا ہوتا ہے۔
حدیث: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم گردن کی دونوں جانب کی رگوں اور دو شانوں کے درمیان میں سینگی لگواتے تھے۔آپ عموماً چاند کی سترہ، انیس اور اکیس تاریخ کو سینگی کا استعمال فرماتے تھے۔
زبدۃ :
حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم بہت کثرت سے سینگی استعمال فرماتے تھے۔ جسکی وجہ یہ ہےکہ خیبر کے یہودیوں نےحضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر کھلادیا تھا۔آپ نے اگرچہ زہر والا گوشت سارا نہیں کھایا تھامگر جو تھوڑی مقدار حلق میں اتر گئی تھی وہ خاص طو ر پر گرمی میں اپنا اثر دکھاتی تھی اور بدن کے جس حصہ میں زہر کے مادہ کا زور ہوتا تھاآپ اسی طرف سینگی لگواتے تھے۔
زبدۃ:
جب انسانی جسم کے کسی حصہ میں فاسد خون جمع ہوکر درد یا ورم کا سبب بن کر تکلیف دیتا ہےتو ایسے خون کو جسم کے تکلیف زدہ حصےسے یا تو بالکل باہر نکال دیا جاتا ہے یا پھر اسے جسم کے دوسرے حصے کی طرف منتقل کردیا جاتاہے۔اس طریقہ علاج کوسینگی لگوانا، حجامہ، پچھنےلگوانایا فصد کھلوانا بھی کہتے ہیں۔
”سینگی“ ایک سینگ نما آلہ ہوتاہےجو کہ اندر سے خالی ہوتا ہےاور