اطباء کے نزدیک بھی صحبت کا بہترین وقتاخیر شب ہےکیونکہ یہ اعتدال کا وقت ہے۔اول وقت میں پیٹ بھرا ہوتاہےاور ایسی حالت میں صحبت نقصان دہ ہوتی ہےاور بھوک کی حالت میں اور زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے۔ اخیر شب کا وقت اس لحاظ سے بھی بہتر ہوتاہےکہ اس میں خاوند اور بیویدونوں کی طبیعت میں سوکر اٹھنے کے بعدخوب نشاط ہوتا ہے۔
لیکن یہ سب طبی مصلحتیں اور حکمتیں ہیں، شرعی طور پر ہر وقت جائز ہے۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اول شباور دن کے مختلف اوقات میں بھی صحبت کرنا ثابت ہے۔البتہ علماء نے لکھاہےکہ عین نماز کے وقت صحبت کرنے سےاگر حمل ٹھہر جائےتو اولاد والدین کی نافرمان ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَفْتَتِحْ صَلاَتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ.
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رات کو تہجد کے لیے اٹھو تو اول دو مختصر رکعتیں پڑھ لیا کرو۔
زبدۃ:
اس سے مراد تحیۃ الوضو کی دو رکعتیں ہیں جن کی ادائیگی سے نیند کا غلبہ دور ہوکر بدن میں چستی آجائے گی، پھر اس کے بعدمعمول کے مطابق تہجد کی نماز چار، آٹھ، بارہ رکعات حسبِ توفیق ادا کرے۔
حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول دو رکعت تحیۃ الوضوء، آٹھ رکعت تہجد اور تین رکعت وتر پڑھنے کا تھا مگر یہ ایسی خاص تحدید نہ تھی کہ کم وبیش نہ ہو بلکہ مختلف اوقات میں مختلف رکعتیں بھی منقول ہیں۔
مثلا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہےکہ آپ تیرہ رکعت