پڑھتے تھےاور زمانہ جاہلیت کے قصے بھی نقل کرتے تھے۔حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم (ان کوروکتے نہ تھے) بلکہ خاموشی سے سنتے تھےاورکبھی کبھار(ان کے مسکرانےکی بات پر) مسکراتے بھی تھے۔
زبدۃ:
اس روایت سے معلوم ہوتاہےکہ اگرچہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم خود توشعر نہیں کہتے تھےکیونکہ یہ آپ کی شان کےمناسب نہ تھے،البتہ آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کوکبھی روکابھی نہیں ہے۔ لہٰذاشعروشاعری بذات خودکوئی بری چیزنہیں ہے۔
حدیث: حضرت ام المؤمنین(میری امی) عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لیے مسجدمیں منبرمبارک رکھوایاکرتے تاکہ وہ اس پرکھڑےہوکرحضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں فخریہ شعر پڑھیں یاحضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کریں(یعنی کفار کے اعتراضات کے جواب دیں) حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:اللہ تعالیٰ روح القدس کےذریعہ حسان کی مددفرمائیں جب تک یہ دین کی مددکرتے رہیں۔
زبدۃ:
1: حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ روح القدس سےملاء اعلیٰ کی پوری جماعت مرادہےجن میں حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی شامل ہیں۔
2: ”شعر“ ایسے کلام کوکہتے ہیں جوقصدوارادہ کےساتھ مقفّٰی اور موزون بنایاگیاہو۔ شعر کے بارے میں بعض روایات سے مذمت اور بعض سے تعریف ثابت ہے۔ مگر خلاصہ سب روایات کایہ ہےکہ شعر کی ذات میں کوئی بھلائی ہےنہ ہی برائی،