ترجمہ: اےکفار کے بیٹو!حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کاراستہ چھوڑدو!آج ہم تمکواللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کے مطابق ایساماریں گے کہ کھوپڑیوں کوتن سے جداکردیں گےاور دوست کودوست بھول جائے گا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عبداللہ بن رواحہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنےاور وہ بھی حرم کی سر زمین پرشعر پڑھتے ہو؟! اس پرحضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے عمر!اس کوچھوڑدو(یعنی شعرپڑھنے دو)کفار پریہ شعرتیروں سے زیادہ اثرکررہےہیں۔
زبدۃ:
1: سن 6 ہجری میں حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کاارادہ فرمایا۔ کفار نےحدیبیہ کےمقام پرروک لیا۔ اس وقت جن شرائط کےتحت صلح ہوئی ان میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ اس سال مسلمان واپس چلے جائیں اور آئندہ سال آکر عمرہ اداکریں۔ تواب سن 7 ہجری میں حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم اسی عمرہ کی قضاکی غرض سےمکہ تشریف لائے تھے۔تویہ واقعہ سن 7ہجری عمرۃالقضاکاہے۔
2: میدان جنگ میں اشعار کہناجس سے مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوں یاکفار کے حوصلے پست ہوں یہ لسانی جہاد میں داخل ہے۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیاکہ حق تعالیٰ شانہ نے قرآن کریم میں شعر کی مذمت فرمائی ہےتوحضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: مؤمن تلوار سے بھی جہاد کرتاہےاور زبان سے بھی، اور یہ زبانی جہاد بھی ایساہی ہےکہ گویاتم تیر برسارہے ہو۔
حدیث: حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں سوسے زیادہ مرتبہ بیٹھاہوں جن میں صحابہ رضی اللہ عنہم اشعار