أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ.....أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
میں بلاشک وشبہ نبی ہوں اور عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہوں۔
زبدۃ:
1: یہ واقعہ سن 8ہجری کاہے۔ اس سخت ترین اور اچانک حملہ کےموقع پرحضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خلفاءِ راشدین سمیت تقریباًایک سوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم ثابت قدم رہےاور باقی لوگ وقتی طور پرمنتشر ہوگئےمگر جب بعدمیں حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پرآواز دی توسارے حضرات واپس لوٹے او ردوبارہ دشمن پر کودپڑےاور اللہ تعالیٰ نے فتح عطافرمائی۔
2: اس موقع پرحضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنےداداعبدالمطلب کیطرف نسبت فرمائی کہ میں عبدالمطلب کابیٹاہوں۔ اسکی وجہ بعض محدثین یہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے والدکاانتقال زمانہ حمل میں ہی ہوگیاتھا، اس لیے آپ ابن عبد المطلب کے نام سے ہی مشہور تھے۔ بعض فرماتے ہیں کہ آپ کےغلبہ کی اطلاع قریش مکہ کوآپ کے دادانے دی تھی۔ گویااب تصدیق کاوقت تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ مکہ کے سردار تھےاور بہت مشہور تھے۔ ان کی شہرت کی وجہ سےآپ نے اپنی نسبت ان کی طرف کردی۔
حدیث: حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاکے موقع پرمکہ میں داخل ہوئےتوحضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ آپ کےآگے آگے چل رہے تھےاور یہ اشعار پڑھ رہے تھے:
خَلُّوْا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيْلِهٖ اَلْيَوْمَ نَضْرِبْكُمُ عَلٰى تَنْزِيْلِهٖضَرْبًا يُزِيْلُ الْهَامَ عَنْ مَّقِيْلِهٖوَيُذْهِلُ الْخَلِيْلَ عَنْ خَلِيْلِهٖ