اکثر محدثین علماء کی رائے کے مطابق یہ قصہ غزوہ احد کاہے،اگرچہ بعض غزوہ خندق اور بعض ہجرت سے بھی پہلے کابتاتے ہیں۔ اس شعر کے بارے میں علامہواقدی علیہ الرحمۃ کی رائے یہ ہےکہ یہ شاعرِعرب ولید بن ولیدکا شعر ہےاور ابن ابی الدنیاکی رائے کے مطابق یہ شعر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کاہے۔ اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ یہ دونوں کابھی ہوسکتاہے۔
بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کااپناشعرہے۔اگر ایسا ہو تواسپر یہ اعتراض نہیں ہوسکتاکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کاارشادہے:
”وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ“ [سورۃ یٰسین: 69]
کہ ہم نےآپ کوشعرکہناسکھایاہےاور نہ ہی آپ کےمناسب ہے۔
کیونکہ ایک آدھ شعر کہنےسےآدمی شاعر نہیں ہوجاتا۔ دوسری بات یہ ہےکہ ”شعر“اس کلام کوکہتے ہیں جوبالقصدہواور جو کلام بلاارادہ قافیہ بندی کےساتھ زبان پرجاری ہوجائےاسےشعرنہیں کہتے۔
حدیث: حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا: اے ابوعمارہ!کیا آپ لوگ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کوجنگ حنین میں چھوڑ کربھاگ گئے تھے؟ تو حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نےفرمایا: نہیں! حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پشت نہیں پھیری بلکہ فوج میں سےبعض جلدبازوں نے(جن میں اکثر قبیلہ بنوسلیم اور مکہ کےنومسلم نوجوان تھے) قبیلہ ہوازن کے تیروں کی وجہ سے منہ پھیرلیاتھا۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پرسوارتھے اور حضرت ابوسفیان بن الحارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے خچر کی لگام پکڑرکھی تھی۔ آپ اس وقت یہ فرمارہے تھے: