اس فانی جہان سے کوچ کرجائےگا۔
دوسرا شاعر امیہ بن ابی الصلت طائف کارہنےوالاتھا۔ مختلف مذاہب کا مطالعہ رکھتاتھا توحید اور قیامت کاقائل تھا۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کااعلان کیاتویہ حسد میں آگیااور کہنے لگاکہ نبوت کاحقدار تومیں تھا۔اس کاکلام نہایت اچھاتھا۔ اس لیے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قریب تھاکہ امیہ بن ابی الصلت اسلام لے آتا۔مگر اس پر بدبختی غالب آگئی۔اس کاایک شعر ہے:
لَکَ الْحَمْدُ وَالنَّعْمَآءُوَالْفَضْلُ رَبَّنَافَلَاشَیْئَ اَعْلٰی مِنْکَ حَمْدًا وَلَامَجْدًا
ترجمہ: اے ہمارے رب! آپ ہی کے لیے سب تعریفیں، سب نعمتیں، سب فضیلتیں ہیں، آپ سے زیادہ کوئی تعریف کے قابل نہیں اور نہ ہی بڑائی کےلائق۔
حضرت شریدرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھاہواتھا۔ میں نے آپ کوامیہ کے سوشعر سنائے۔آپ ہرشعر پرفرماتے : ”اور سناؤ!“ اور آخر میں فرمایاکہ قریب تھاکہ امیہ اسلام لے آتا۔
حدیث: حضرت جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی پر پتھر سے چوٹ لگ گئی جس کی وجہ سے انگلی مبارک سے خون نکل پڑا۔ اس پر حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا:
هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيْتِوَفِىْ سَبِيْلِ اللهِ مَا لَقِيْتِ
ترجمہ: توایک انگلی ہی ہےجوخون آلودہوگئی ہے اور تجھےیہ تکلیف بھی تو اللہ کے راستے میں ہی آئی ہے۔
زبدۃ: