اورگھی کابنا ہوا تھاکیونکہ شکر کا اس وقت رواج نہ تھا اور شکر کی جگہ پر شہد یا کھجوریں استعمال ہوتی تھیں۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا.
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایاگیا، اس میں سے ایک بازو آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ بازو آپ کو بہت پسند تھا جسے آپ نے دانتوں سے نوچ کر تناول فرمایا۔
زبدۃ:
1: حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو بکری کی اگلی ٹانگوں (جن کو ”دست“ بھی کہتے ہیں) کا گوشت بہت پسند تھا۔ اسکی ایک وجہ حضرت ام المؤمنین (میری امی)عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بھی بیان فرماتی ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کبھی کبھار ملتا تھا اور ”دست“ کا گوشت بہت جلدی تیار ہوجاتاتھا۔اگرچہ اسکی اور وجہیں بھی ہوسکتی ہیں۔روایات کے مطابق آپ کو دست کے گوشت میں ہی زہر ملا کر کھلایا گیا تھا جس کا اثر آخر عمر تک رہا۔
2: اس کےعلاوہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ بہترین گوشت پُٹھ کا گوشت ہے۔ یہ گوشت ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ ملا ہوتا ہےجس میں چربی بھی ہوتی ہے۔ یہ گوشت کھانے میں نہایت لذیذ اور عمدہ ہوتا ہے اور ویسے گوشت بغیر کسی حصہ کی تخصیص کے بھی پسندیدہ ہونا حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں آیا ہے۔
3: دانتوں سے کاٹ کر کھانے کی حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ترغیب بھی ارشاد فرمائی ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ گوشت کو دانتوں سے کاٹ کر کھایا کرو، اس سے ہضم بھی خوب ہوتا ہے اور بدن کو موافق بھی زیادہ ہوتا ہے۔ یہ تو عام