حالات کی بات ہے، البتہ اگر کبھی غیر معمولی حالات میں چھری کی ضرورت پڑ جائے مثلاً گوشت کا ٹکڑابہت زیادہ ہو اور اس میں سے ہر لقمہ ہاتھ سے توڑنا ممکن نہ ہو تو پھر چاقو کا استعمال بھی جائز ہے اور روایات سے ثابت ہے۔ البتہ بلاوجہ اور بلا ضرورت چاقو چھری سے گوشت کاٹ کر نہ کھایا جائے کہ روایات میں اس سے منع کیا گیا ہے اور اس کو کفار کا طریقہ بتا یاگیا ہے۔لہذا اس سےاحتیاط کرنی چاہیے۔
4: ایک اہم بات یہ ہے کہ بھنے ہوئے گوشت کے کھالینےسےوضوءختم نہیں ہوتابلکہ باقی رہتا ہے۔ جن روایات سےکھانے کے بعدوضو کاکرنامعلوم ہوتاہےوہ روایات پہلے کی ہیں اور منسوخ ہیں۔
5: بعض روایات سےمسجد میں کھانے کی اجازت معلوم ہوتی ہے۔ اس سلسلہ میں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیےکہ مسجد میں کھانے کی عادت بنا لینا تو قطعاً درست نہیں، البتہ مجبوری کی حالت میں مسافروں کے لیے اور طلبہ کے لیے اگر علیحدہ جگہ نہ ہوتو وہ مسجد میں کھا سکتے ہیں۔ معتکف حضرات بھی مسجد میں ہی کھائیں گے مگر مسجد کے آداب کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ : طَبَخْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِدْرًا وَقَدْ كَانَ يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ ثُمَّ قَالَ : نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ ، فَنَاوَلْتُهُ ثُمَّ قَالَ : نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَمْ لِلشَّاةِ مِنْ ذِرَاعٍ فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي الذِّرَاعَ مَا دَعَوْتُ.
ترجمہ: حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہانڈی پکائی۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اگلے پائے بہت پسند تھے، چنانچہ میں نے ایک پایہ نکال کر حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ پھر آپ نے فرمایا:مجھے ایک پایہ اور دو!میں نے دوسرا پایہ بھی دے دیا۔ آپ نے پھرفرمایا:مجھے ایک پایہ اور دو!میں نے عرض کیا یارسول اللہ! بکری کے اگلےپائے