کا تیار کروایایا کدو اس میں ڈلوایا۔
2: حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ کدو بہت اچھی چیز ہے اور میرے بھائی یونس علیہ السلام کا درخت ہے یعنی جب حضرت یونس علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام مچھلی کے پیٹ سے باہر نکلے تو مچھلی کے پیٹ کی حرارت کی وجہ سے آپ کے بدن مبارک کی جلد نہایت نرم ہوچکی تھی، دریا کے باہر کوئی سایہ دار درخت نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے کدو کی بیل ان پرکردی جسکا ذکر قرآن کریم میں ہے: ”وَأَنْبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِنْ يَقْطِينٍ“(سورۃ الصافات: 146)کدوتر ہونے کےباوجودحافظے کو قوی کرتا ہے اور عقل کو تیز کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ.
ترجمہ: حضرت ام المؤمنین(میری امی) عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم حلوہ اور شہد کوپسندفرماتےتھے۔
زبدۃ:
عربی زبان میں ہر میٹھی چیز کوحُلواء(حلوہ) کہتے ہیں۔ اس سے مراد ہمارے ہاں کا معروف ومشہور حلوہ نہیں ہے جو کہ آٹا یا سوجی ،گھی، چینی وغیرہ ملاکربنایاجاتاہے۔ اس تشریح کی بناءپراگرچہ حلوہ میں شہدبھی شامل ہے،پھربھی شہدکوالگ اسکی خصوصیت کے پیش نظر بیان کیاگیا۔
بعض حضرات محدثین یہ بھی فرماتے ہیں کہ حدیث پاک میں بھی متعارف حلوہ ہی مراد لیا گیا ہے جو کہ آٹا، گھی وغیرہ سے بنایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حلوا بنا کر حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کیا تھا اور حضرت نے اس کو پسند بھی فرمایا تھا۔ یہ حلوہ آٹے، شہد