حضرت شاہ عبد العزیز محدث دھلوی(م۱۲۳۹ ھ) تفسیر عزیزی میں فرماتے ہیں: زیتون کا پھل نہایت قوی ہے، اسکے پھل پلاؤمیں ڈالے جاتے ہیں جو کھانے کو مزیدمرغوب اور خوش ہضم بنادیتے ہیں۔ زیتون کا تیل انسانی پٹھوں کے لیے بہت مفید ہے۔ فالج کےمریضوں یا بڑی عمر کے کمزور پٹھوں والے آدمیوں کے لیے زیتون کے تیل کی مالش نہایت مفید ہے۔
اس درخت کی عمر بہت لمبی ہوتی ہے۔ عام طور پر بارہ سال کی عمر میں پھل لاتا ہےاور ایک ہزار کی عمر تو اکثر ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الدُّبَّاءُ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ ، أَوْ دُعِيَ لَهُ فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُهُ فَأَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ لِمَا أَعْلَمُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ.
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی علیہ وسلم کو کدو بہت مرغوب تھا۔ ایک مرتبہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانا آیا یاآپ کسی دعوت میں تشریف لے گئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ میں کدو کے قتلے چن چن کر حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھتا جاتا تھا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند ہے۔
زبدۃ:
1: حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو کا سالن بہت پسند تھا۔ کدو کے ٹکڑے ہوں یا اس کا شوربا، دونوں ہی بہت مرغوب تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سےایک روایت ہےکہ آپ ایک آدمی کی دعوت میں تشریف لے گئے تو میں نے دیکھا کہ آپ پیالے کی سب جانبوں سےکدو کو تلاش کرکے کھاتے رہے۔ حضرتانس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس دن سے مجھے بھی کدو بہت محبوب ہوگیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی فرماتے ہیں کہ میں نے جب کھانا تیار کرایا اگر میرے بس میں ہوا تو میں نے کدو ہی