اچھے پیدا کرتا ہے ۔ دماغ اور جملہ اعضائے رئیسہ کو قوت دیتا ہے۔ آواز بھی صاف کرتا ہے اور رنگ بھی خوش نما پیدا کرتا ہے۔ عقل کو بھی قوت دیتا ہے۔ سب سے بڑھ کر اس کا کھانا سنت سے ثابت ہوگیا ہے۔ واضح ہو کہ یہاں دیسی مرغی کی بات ہورہی ہے، برائلر کی نہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ ؛ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ.
ترجمہ: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیتون کا تیل کھاؤ اور مالش بھی کرو، اس لیے کہ وہ مبارک درخت سے پیدا کیا گیا ہے۔
زبدۃ:
زیتون کا ذکر قرآن کریم نے کئی بار فرمایا ہے حتیٰ کے اسکے نام کی قسم بھی کھائی ہے۔ زیتون بہت بابرکت ہے۔ انبیاء علیہم السلام نے اسکے بابرکت ہونے کی دعا فرمائی ہے۔ یہ اکثر ملک شام میں پیدا ہوتا ہے اور ملک شام میں سترنبی مبعوث ہوئے ہیں۔ زیتون کے بابرکت ہونے کی ظاہری اور مادی علامت یہ بھی ہے کہ اس کی ہر چیز کارآمد ہوتی ہے، اسکی لکڑی، پتے، پھل حتیٰ کہ اس کا سایہ بھی نہایت گھنا ہونے کی وجہ سے انسان کے کام آتا ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اسکی ہر چیز میں منافع ہے، اس کا تیل جلانے کےکام آتاہے،کھانے کےکام آتاہے،دباغت کے کام آتاہے،ایندھن جلانے کےکام آتاہے حتیٰ کہ اسکی راکھ ریشم دھونے کے کام آتی ہے۔حضرت ابونعیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس میں ستر بیماریوں کی شفاء ہے جن میں ایک جذام بھی ہے۔