ہوئے خود دیکھا ہے۔ وہ شخص کہنے لگا کہ میں نے مرغی کو گندی چیزیں کھاتے ہوئے دیکھا ہے جس کی وجہ سے مجھے اس سے کراہت آتی ہے، لہٰذا میں نے اس کے نہ کھانے کی قسم کھا لی ہے۔
زبدۃ:
1: حلال جانوروں میں سے اگر کوئی جانور کثرت سے گندی چیزیں کھانے لگ جائے تو اس کاگوشت کھانا مکروہ ہے۔ گندگی کھانے کا جانور دراصل ایسا جانور ہوجاتاہےکہ اسکے سونگھنے کی قوت خراب ہوجاتی ہےجس کی وجہ سے اسے اچھی خوراک پسند نہیں آتی بلکہ وہ گندی اور نجس چیزوں میں منہ مارتا رہتا ہے۔ ایسے جانور کو ”جلالہ“ کہتے ہیں۔
ایسے جانور کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ جانور بڑا ہو جیسے گائے، بھیڑ، بکری وغیرہ تو اسکو دس روز تک گھر میں باندھ کے رکھو اور پاکیزہ اور صاف خوراک دو۔ اب اس کاگوشت مکروہ نہیں رہے گا اور اگر جانور چھوٹا ہے جیسے مرغی وغیرہ تو اس کو تین دن تک گھر میں بند کرکے رکھو اور گندی اشیاء کے بجائے صرف پاکیزہ چیزیں کھلاؤ تو اس کا کھانا بھی مکروہ نہیں رہے گا۔
مرغی عام طور پر اچھی خوراک کھاتی ہے مگر گندی جگہوں میں بھی منہ ڈالتی رہتی ہے۔تاہم یہ جلالہ کے حکم میں نہیں آتی اور نہ ہی اس کا گوشت بدبو دار ہوتا ہے۔ لہذا اسکا گوشت کھانے میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
2: بخاری شریف میں یہ لمبا قصہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے پھر بھی یہی فرمایا کہ کھاؤ اور قسم کا کفارہ ادا کرو کیونکہ حلال چیز کےنہ کھانے کے کیا معنیٰ؟
3: مرغی کاگوشت بہت مفید ہے۔ گرم تر ہے۔جلدی ہضم ہوجاتا ہے۔ اخلاط