حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : أَكَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ حُبَارَى.
ترجمہ: حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے(ایک موقع پر) حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حبُاریٰ کا گوشت کھایا۔
زبدۃ:
1: ” سفینہ“ کامعنی ہوتا ہے”کشتی“۔ حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کا لقب بھی سفینہ اس وجہ سے پڑگیاتھاکہ آپ سفر میں کشتی کی طرح بہت سامان اٹھا لیتے تھے۔
2: ”حُباریٰ“ ایک جنگلی پرندہ ہےجوکہ مرغسے ذراکم مگر خاصہ موٹا ہوتا ہے۔ اس کی گردن ،چونچ اور پاؤں قدرے لمبے ہوتے ہیں۔یہ خاکی رنگ کاہوتا ہے۔اڑتے وقت بہت شور کرتا ہے۔ تیز رفتار اور بہت طاقتورپرندہ ہے۔ اس کانام بعض نے سرخاب بعض نے بٹیر،بعض نے چکا چکوٹی اوربعض نے تغدری بتایا ہے۔ محیط اعظم میں لکھا ہےکہ فارسی میں اس کو ہوبرہ، شعورت اور شوال کہتے ہیں اور ہندی میں چرزکو اور یونانی لوگ غلومس کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ : فَقَدَّمَ طَعَامَهُ وَقَدَّمَ فِي طَعَامِهِ لَحْمَ دَجَاجٍ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَاَنَّهُ مَوْلًى قَالَ : فَلَمْ يَدْنُ فَقَالَ لَهُ أَبُوْ مُوْسٰى : اُدْنُ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ مِنْهُ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لاَ أَطْعَمَهُ أَبَدًا.
ترجمہ: حضرت زہدم جرمی فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے۔ اتنے میں ان کاکھانا لایا گیاجس میں مرغی کا گوشت تھا۔ اس مجلس میں بنی تیم اللہ کا ایک سرخ رنگ کا آدمی بھی تھا جو آزاد شدہ غلام معلوم ہوتا تھا۔وہ کھانے میں شامل نہ ہوا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم بھی ادھر آؤ(اور کھاؤ) کیونکہ میں نے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کاگوشت کھاتے