یجوز لھا ان یحج بغیرھما اذا کان بینھا وبین مکة مسیرة ثلثة ایام فصاعدا]٦٠٧[ (٣) والمواقیت التی لا یجوز ان یتجاوزھا الانسان الا محرما لاھل المدینة ذو الحلیفة ولاھل
کہ محرم کو بھی خرچ دیکر حج کے لئے لے جا سکے ۔
نوٹ بعض علماء نے فرمایا کہ محرم نہ ہو تو حج ہی فرض نہیں ہوگا۔ اور بعض فرماتے ہیں کہ حج فرض ہو جائے گا۔لیکن حج میں جانا فرض نہیں ہوگا۔ وہ حج بدل کے لئے وصیت کرے۔
وجہ حدیث میں ہے عن ابی سعید قال قال رسول اللہ ۖ لا یحل لامرأة تومن باللہ والیوم الآخر ان تسافر سفرا فوق ثلثة ایام فصاعدا الا و معھا ابوھا او اخوھا او زوجھا او ابنھا او ذومحرم منھا (الف) (ابو داؤد شریف ، باب فی المرأة تحج بغیر محرم ص ٢٤٩ نمبر ١٧٢٦ مسلم شریف ، باب سفر المرأة مع محرم الی حج وغیرہ ص ٤٣٢ نمبر ١٣٤٠)(٢) دار قطنی میں ہے عن ابی امامة قال سمعت رسول اللہ ۖ یقول لا تسافر امرأة سفرا ثلاثة ایام او تحج الا و معھا زوجھا (ب) (دار قطنی ،کتاب الحج ج ثانی ص ١٩٩ نمبر ٢٤١٩) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کے ساتھ محرم ہو تب حج فرض ہوگا۔ کیونکہ بغیر محرم کے تین دن سے زیادہ کا سفر کرنا جائز نہیں ہے ۔
فائدہ امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر اس کے ساتھ معتمد عورت ہو تو حج میں عورت جا سکتی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ عورت کے ساتھ جانے سے خرافات کا خطرہ ہے اس لئے منع کیا جائے اور حدیث میں بھی منع فرمایا ہے۔
نوٹ تا ہم اگر عورت نے بغیر محرم کے حج کر لیا تو حج فرض ادا ہو جائے گا،اگر چہ ناجائز کا ارتکاب کیا۔
]٦٠٧[(٣)اور وہ میقات جو نہیں جائز ہے کہ انسان ان سے آگے گزرے مگر احرام باندھ کر۔اہل مدینہ کے لئے ذو الحلیفہ ، اہل عراق کے لئے ذات عرق ، اہل شام کے لئے حجفہ،اہل نجد کے لئے قرن اور اہل یمن کے لئے یلملم ہے۔
تشریح مکہ مکرمہ سے کافی دوری پر یہ مقامات ہیں۔ مکہ مکرمہ کی تعظیم کے لئے یہ ضروری ہے کہ جب ان میقات سے باہر سے لوگ مکہ مکرمہ آئیں تو ان مقامات پر حج یا عمرہ کا احرام باندھ کر آئیں۔ اور حج یا عمرہ کریں۔پھر اپنا کام کریں یہ بیت اللہ کی عظمت کا تقاضا ہے۔ اور اگر احرام باندھے بغیر آ گئے تو اس کو دم لازم ہوگا۔ جس طرح کوئی مسجد میں آئے تو مسجد کی عظمت کا تقاضا ہے کہ پہلے دو رکعت تحیة المسجد پڑھے یا اور کوئی نماز پڑھے۔
وجہ (١) ان مقامات کی تصریح حدیث میں ہے عن ابن عباس قال وقت رسول اللہ ۖ لاھل المدینة ذا الحلیفة،ولاھل الشام الجحفة ، ولاھل نجد قرن المنازل ،ولاھل الیمن یلملم ھن لھن ولمن اتی علیھن من غیر ھن ممن اراد
حاشیہ : (الف) آپۖ نے فرمایا جو عورت اللہ اورآخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لئے حلال نہیں ہے کہ تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا باپ ہویا اس کا بھائی ہو یا اس کا شوہر ہو یا اس کا بیٹا ہو یا اس کا ذی رحم محرم ہو(ب) آپۖ فرمایا کرتے تھے عورت نہ سفر کرے تین دن کا سفر یا حج نہ کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا شوہر ہو۔