علی الزاد والراحلة فاضلا عن المسکن ومالا بد منہ وعن نفقة عیالہ الی حین عودہ وکان الطریق آمنا]٦٠٦[ (٢) ویعتبر فی حق المرأة ان یکون لھا محرم یحج بھا او زوج ولا
... فقالت یا رسول اللہ ان فریضة اللہ عزوجل علی عبادہ فی الحج ادرکت ابی شیخا کبیرا لا یستطیع ان یثبت علی الراحلة افاحج عنہ قال نعم وذلک فی حجة الوداع (الف) (ابو داؤد شریف، باب الرجل یحج عن غیرہ ص ٢٥٩ نمبر ١٨٠٩ ترمذی شریف ،باب ماجاء فی الحج عن الشیخ الکبیر وا لمیت ص ١٨٥ نمبر ٩٢٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تندرست ہو تو حج کرے گا ورنہ اس پر حج فرض نہیں ہے۔ البتہ فرض ہو گیا ہو بعد میں بیمار ہوا ہو تو اس کی جانب سے ولی حج بدل کرے ۔توشہ اور کجاوہ ہو تب حج فرض ہوتا ہے اس کی دلیل یہ حدیث ہے عن ابن عمر قال جاء رجل الی النبی ۖ فقال یا رسول اللہ مایوجب الحج قال الزاد والراحلة (ب) (ترمذی شریف ، باب ماجاء فی ایجاب الحج بالزاد والراحلة ص ١٦٨ نمبر ٨١٣ دار قطنی ، کتاب الحج ج ثانی ص ١٩٣ نمبر ٢٣٨٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سفر کا توشہ ہو اور سواری پر سوار ہونے کا خرچ ہو تب حج فرض ہوتا ہے۔ مکان سے اور مکان کی ضروری اشیاء سے فاضل ہواور واپس لوٹنے تک اہل و عیال کے نفقہ سے زیادہ ہو۔
وجہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب انسان کی حاجت اصلیہ ہیں اور حج کے لئے حاجت اصلیہ سے فارغ ہو۔کیونکہ یہ حقوق العباد ہیں اور حج حقوق اللہ ہے اور حقوق العباد حقوق اللہ سے مقدم ہوتے ہیں۔ اس لئے ان سب ضروریات سے فارغ ہو تب حج واجب ہوگا۔ اور راستہ مامون ہو تب حج فرض ہوتا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ راستہ مامون نہیں ہوگا تو حج کرنے کیسے جائے گا۔ من استطاع الیہ سبیلا میں یہ داخل ہے کہ راستہ مکہ مکرمہ تک مامون ہو تاکہ بیت اللہ تک جا سکے (٢) جب تک مکہ مکرمہ تک جانے کا راستہ مامون نہ ہوا اس وقت تک حضور حج کرنے تشریف نہیں لے گئے۔حدیث میں ہے عن ابی اما مة عن النبی ۖ قال من لم یحبسہ مرض او حاجة ظاھرة او سلطان جائر ولم یحج فلیمت ان شاء یھودیا او نصرانیا (سنن للبیھقی ، باب امکان الحج ج رابع ص ٥٤٦، نمبر٨٦٦٠) اس حدیث میں ہے کہ ظالم بادشاہ نہ روکے جس سے راستہ کے مامون ہونے پر استدلال کیا جا سکتا ہے۔
لغت الزاد : توشہ۔ راحلة : کجاوہ، سواری۔ عود : لوٹنا، واپس ہونا۔
]٦٠٦[(٢)اور عورت کے حق میں اعتبار کیا جائے گا کہ اس کے لئے محرم ہو جو اس کو حج کرائے ،یا شوہر ہو۔ اور نہیں جائز ہے عورت کے لئے کہ ان دونوں کے بغیر حج کرے جب کہ عورت کے درمیان اور مکہ مکرمہ کے درمیان تین دن کا سفر ہو یا زیادہ کا سفر ہو ۔
تشریح عورت جس مقام سے حج کرنا چاہتی ہے وہاں سے مکہ مکرمہ تک تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر ہو تو بغیر محرم کے حج فرض نہیں ہوگا۔ یا محرم ہو یا شوہر ہو جو اس کو حج کرا سکے تب حج فرض ہوگا۔ اگر کوئی محرم اپنے خرچ سے حج کے لئے تیار نہ ہو تو عورت کے پاس اتنا خرچ ہونا چاہئے
حاشیہ : (الف) حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ فضل بن عباس حضورۖ کے پیچھے بیٹھے تھے کہ قبیلۂ خثعم کی ایک عورت آئی ... کہنے لگی اے اللہ کے رسول حج کے بارے میں اللہ کا فرض بندوں پر نازل ہوا ہے، میرے باپ کو بوڑھاپا آ گیا ہے ،کجاوے پر ٹھہر نہیں سکتا تو کیا میں ان کی جانب سے حج کروں؟ آپۖ نے فرمایا ہاں ! یہ معاملہ حجة الوداع کا تھا(ب) ایک آدمی حضورۖ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ! حج کس چیز سے واجب ہوتا ہے؟ آپۖ نے فرمایا توشہ اور کجاوہ کے مالک ہونے سے۔