Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 1 - یونیکوڈ

384 - 493
علی الزاد والراحلة فاضلا عن المسکن ومالا بد منہ وعن نفقة عیالہ الی حین عودہ وکان الطریق آمنا]٦٠٦[ (٢) ویعتبر فی حق المرأة ان یکون لھا محرم یحج بھا او زوج ولا 

... فقالت یا رسول اللہ ان فریضة اللہ عزوجل علی عبادہ فی الحج ادرکت ابی شیخا کبیرا لا یستطیع ان یثبت علی الراحلة افاحج عنہ قال نعم وذلک فی حجة الوداع (الف) (ابو داؤد شریف، باب الرجل یحج عن غیرہ ص ٢٥٩ نمبر ١٨٠٩ ترمذی شریف ،باب ماجاء فی الحج عن الشیخ الکبیر وا  لمیت ص ١٨٥ نمبر ٩٢٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تندرست ہو تو حج کرے گا ورنہ اس پر حج فرض نہیں ہے۔ البتہ فرض ہو گیا ہو بعد میں بیمار ہوا ہو تو اس کی جانب سے ولی حج بدل کرے ۔توشہ اور کجاوہ ہو تب حج فرض ہوتا ہے  اس کی دلیل یہ حدیث ہے  عن ابن عمر قال جاء رجل الی النبی ۖ فقال یا رسول اللہ مایوجب الحج قال الزاد والراحلة (ب) (ترمذی شریف ، باب ماجاء فی ایجاب الحج بالزاد والراحلة ص ١٦٨ نمبر ٨١٣ دار قطنی ، کتاب الحج ج ثانی ص ١٩٣ نمبر ٢٣٨٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سفر کا توشہ ہو اور سواری پر سوار ہونے کا خرچ ہو تب حج فرض ہوتا ہے۔ مکان سے اور مکان کی ضروری اشیاء سے فاضل ہواور واپس لوٹنے تک اہل و عیال کے نفقہ سے زیادہ ہو۔   
وجہ  اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب انسان کی حاجت اصلیہ ہیں اور حج کے لئے حاجت اصلیہ سے فارغ ہو۔کیونکہ یہ حقوق العباد ہیں اور حج حقوق اللہ ہے اور حقوق العباد حقوق اللہ سے مقدم ہوتے ہیں۔ اس لئے ان سب ضروریات سے فارغ ہو تب حج واجب ہوگا۔ اور راستہ مامون ہو تب حج فرض ہوتا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ راستہ مامون نہیں ہوگا تو حج کرنے کیسے جائے گا۔ من استطاع الیہ سبیلا  میں یہ داخل ہے کہ راستہ مکہ مکرمہ تک مامون ہو تاکہ بیت اللہ تک جا سکے (٢) جب تک مکہ مکرمہ تک جانے کا راستہ مامون نہ ہوا اس وقت تک حضور حج کرنے تشریف نہیں لے گئے۔حدیث میں ہے  عن ابی اما مة عن النبی ۖ قال من لم یحبسہ مرض او حاجة ظاھرة او سلطان جائر ولم یحج فلیمت ان شاء یھودیا او نصرانیا (سنن للبیھقی ، باب امکان الحج ج رابع ص ٥٤٦، نمبر٨٦٦٠) اس حدیث میں ہے کہ ظالم بادشاہ نہ روکے جس سے راستہ کے مامون ہونے پر استدلال کیا جا سکتا ہے۔  
لغت  الزاد  :  توشہ۔  راحلة  :  کجاوہ، سواری۔  عود  :  لوٹنا، واپس ہونا۔
]٦٠٦[(٢)اور عورت کے حق میں اعتبار کیا جائے گا کہ اس کے لئے محرم ہو جو اس کو حج کرائے ،یا شوہر ہو۔ اور نہیں جائز ہے عورت کے لئے کہ ان دونوں کے بغیر حج کرے جب کہ عورت کے درمیان اور مکہ مکرمہ کے درمیان تین دن کا سفر ہو یا زیادہ کا سفر ہو ۔
 تشریح  عورت جس مقام سے حج کرنا چاہتی ہے وہاں سے مکہ مکرمہ تک تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر ہو تو بغیر محرم کے حج فرض نہیں ہوگا۔ یا محرم ہو یا شوہر ہو جو اس کو حج کرا سکے تب حج فرض ہوگا۔ اگر کوئی محرم اپنے خرچ سے حج کے لئے تیار نہ ہو تو عورت کے پاس اتنا خرچ ہونا چاہئے 

حاشیہ  :  (الف) حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ فضل بن عباس حضورۖ کے پیچھے بیٹھے تھے کہ قبیلۂ خثعم کی ایک عورت آئی ... کہنے لگی اے اللہ کے رسول حج کے بارے میں اللہ کا فرض  بندوں پر نازل ہوا ہے، میرے باپ کو بوڑھاپا آ گیا ہے ،کجاوے پر ٹھہر نہیں سکتا تو کیا میں ان کی جانب سے حج کروں؟ آپۖ نے فرمایا ہاں ! یہ معاملہ حجة الوداع کا تھا(ب) ایک آدمی حضورۖ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ! حج کس چیز سے واجب ہوتا ہے؟ آپۖ نے فرمایا توشہ اور کجاوہ کے مالک ہونے سے۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 ( کتاب الطھارة ) 35 1
3 ( باب التیمم ) 73 2
4 (باب المسح علی الخفین) 82 2
5 (باب الحیض) 90 2
6 (باب الانجاس) 101 2
7 (کتاب الصلوة) 113 1
8 (باب الاذان) 121 7
9 (باب شروط الصلوة التی تتقدمھا) 127 7
10 (باب صفة الصلوة) 134 7
11 (باب قضاء الفوائت) 192 7
12 (باب الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة) 195 7
13 (باب النوافل) 200 7
14 (باب سجود السھو) 209 7
15 (باب صلوة المریض) 216 7
16 (باب سجود التلاوة) 221 7
17 (باب صلوة المسافر) 226 7
18 (باب صلوة الجمعة) 238 7
19 (باب صلوة العدین ) 250 7
20 ( باب صلوة الکسوف) 259 7
21 ( باب صلوة الاستسقائ) 263 7
22 ( باب قیام شہر رمضان) 265 7
23 (باب صلوة الخوف) 268 7
24 ( باب الجنائز) 273 7
25 ( باب الشہید) 291 7
26 ( باب الصلوة فی الکعبة) 295 7
27 ( کتاب الزکوة) 298 1
28 (باب زکوة الابل ) 303 27
29 (باب صدقة البقر ) 308 27
30 ( باب صدقة الغنم) 312 27
31 ( باب زکوة الخیل) 314 27
32 (باب زکوة الفضة) 322 27
33 ( باب زکوة الذھب ) 325 27
34 ( باب زکوة العروض) 326 27
35 ( باب زکوة الزروع والثمار ) 328 27
36 (باب من یجوز دفع الصدقة الیہ ومن لایجوز) 337 27
37 ( باب صدقة الفطر) 347 27
38 ( کتاب الصوم) 354 1
39 ( باب الاعتکاف) 378 38
40 ( کتاب الحج ) 383 1
41 ( باب القران ) 426 40
42 ( باب التمتع ) 433 40
43 ( باب الجنایات ) 442 40
44 ( باب الاحصار ) 471 40
45 ( باب الفوات ) 478 40
46 ( باب الھدی ) 481 40
Flag Counter