العراق ذات عرق ولاھل الشام الجحفة ولاھل النجد قرن ولاھل الیمن یلملم]٦٠٨[(٤) فان قدم الاحرام علی ھذہ المواقیت جاز]٦٠٩[ (٥) ومن کان منزلہ
الحج والعمرة ومن کان دون ذلک فمن حیث انشاء حتی اھل مکة من مکة (الف) (بخاری شریف ، باب محصل اہل مکة للحج والعمرة ص ٢٠٦ نمبر ١٥٢٤ مسلم شریف ، باب مواقیت الحج ص ٣٧٤ نمبر ١١٨١) اس حدیث سے ثابت ہواکہ یہ مقامات ان لوگوں کے لئے میقات ہیں۔ بغیر احرام کے ان سے آگے گزرنا جائز نہیں(٢)عن عائشة ان رسول اللہ ۖ وقت لاھل العراق ذات عرق (ب ) (ابو داؤد شریف ، باب فی امواقیت ص ٢٥٠ نمبر ١٧٣٩ بخاری شریف ، باب ذات عرق لاھل العراق ص ٢٠٧ نمبر ١٥٣١)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اہل عراق کے لئے میقات مقام ذات عرق ہے۔
( میقات )
ذو الحلیفہ
یہ مقام اہل مدینہ کی میقات ہے
مکہ مکرمہ سے 410 کیلو میٹر دور شمال کی جانب ہے
ذات عراق
یہ مقام اہل عراق کی میقات ہے
مکہ مکرمہ سے 90 کیلو میٹر دور مشرق کی جانب ہے
جحفہ
یہ مقام اہل شام کی میقات ہے
مکہ مکرمہ سے 187 کیلو میٹر دور شمال کی جانب ہے
قرن
یہ مقام اہل نجد کی میقات ہے
مکہ مکرمہ سے 80 کیلو میٹر دور جنوب کی جانب ہے
یلملم
یہ مقام اہل یمن کی میقات ہے
مکہ مکرمہ سے 130 کیلو میٹر دور جنوب کی جانب ہے
]٦٠٨[(٤)پس اگر احرام ان مقامات سے پہلے باندھ لیا تو جائز ہے۔
تشریح اوپر جو پانچ جگہ میقات کی بیان کی گئی ہیںان مقامات سے پہلے بھی احرام باندھ لیا تو جائز ہے ،بلکہ صبر کر سکے تو افضل ہے۔
وجہ حدیث میں ہے عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قولہ عزوجل واتموا الحج والعمرة للہ ،قال من تمام الحج ان تحرم من دویرة اھلک (ج) (سنن للبیھقی ، باب من استحب الاحرام من دویرة اھلہ ج خامس ص ٤٥، نمبر ٨٩٢٩) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر گھر سے احرام باندھے تو زیادہ بہتر ہے۔
]٦٠٩[(٥)جس کا گھر میقات کے بعد ہو تو اس کی میقات حل ہے۔
تشریح مقام میقات کے اندر اور بیت اللہ کے ارد گرد جو حرم کا حصہ ہے اس سے باہر کو حل کہتے ہیں۔ جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہیںان کے لئے حج اور عمرہ کا احرام باندھنے کے لئے جگہ حل ہے۔ وہ حل سے اپنا احرام باندھے۔ اس کو واپس میقات پر آنے کی ضرورت نہیں ہے۔
حاشیہ : (الف) آپۖ نے میقات متعین کیا۔مدینہ والوں کے لئے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لئے جحفہ،نجد والوں کے لئے قرن المنازل ، یمن والوں کے لئے یلملم ۔ یہ میقات ان لوگوں کے لئے ہیں اور ان کے علاوہ جو ان میقات سے گزریں ان میں سے جو حج اور عمرہ کا ارادہ کرتے ہوں۔اور جو ان میقات کے اندر ہوں تو جہاں سے شروع کر رہا ہو(وہ وجہ جگہ اس کی میقات ہے) یہاں تک کہ مکہ والوں کے لئے مکہ سے میقات ہے(ب)آپۖ نے میقات متعین کیا عراق والوں کے لئے ذات عرق(ج) حضورۖ سے مروی ہے کہ اللہ کا قول ' اتمو الحج للہ والعمرة للہ ، آپۖ نے فرمایا کہ حج کے اتمام میں سے یہ ہے کہ اپنے اہل کے گھر سے احرام باندھے ۔