Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 1 - یونیکوڈ

366 - 493
]٥٧٥[ (٢٥) ویکرہ للمرأة ان تمضغ لصبیھا الطعام اذا کان لھا منہ بد]٥٧٦[ (٢٦) ومضغ العلک لا یفطر الصائم ویکرہ]٥٧٧[(٢٧) ومن کان مریضا فی رمضان فخاف 

]٥٧٥[(٢٥)عورت کے لئے مکروہ ہے کہ اپنے بچے کے لئے کھانا چبائے جب کہ اس کے لئے کوئی راستہ موجود ہو۔  
تشریح  اگر بچے کے کھانے کو چبانے کی ضرورت نہیں ہے تو اس کو چبانا مکروہ ہے۔ اور اگر اشد ضرورت پڑ جائے تو چبا سکتی ہے بشرطیکہ پیٹ میں کھانا نہ جائے۔  
وجہ  اثر میں ہے  عن ابراہیم قال لا بأس ان تمضغ المرأة لصبیھا وھی صائمة مالم تدخل حلقھا (الف) ( مصنف ابن ابی شیبة ،٥٠ فی الصائمة تمضغ لصبیھا ج ثانی ص ٣٠٦،نمبر٩٢٩٣) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ضرورت پڑے تو عورت اپنے بچے کے لئے کھانا چبا سکتی ہے۔بشرطیکہ اس کے حلق میں کھانا نہ پہنچے ۔
 لغت  مضغ  :  چبانا۔
]٥٧٦[(٢٦) علک کے چبانے سے روزہ دار کا روزہ نہیں ٹوٹے گا لیکن مکروہ ہے۔  
وجہ  علک دانت صاف کرنے کے لئے عورتیں چباتی ہیں۔اس لئے اگر صر ف دانت صاف کرنے کے لئے چبا کر پھینک دیا اور حلق میں اس کا دانہ نہیں گیا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔کیونکہ پیٹ میں کوئی چیز نہیں گئی لیکن ایسا کرنا مکروہ ہے (٢) اثر میں ہے  عن ابراہیم انہ رخص فی مضغ العلک للصائم  مالم یدخلہ حلقہ (ب) (مصنف ابن ابی شیبة ،٣١ من رخص فی مضغ العلک للصائم،ج جلد ثانی،ص ٢٩٧،نمبر٩١٧٩) اس اثر سے معلوم ہوا کہ علک چبانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا بشرطیکہ کوئی چیز حلق میں نہ جائے۔  
لغت  العلک  :  چبانے کا گوند۔
]٥٧٧[(٢٧) جو رمضان میں بیمار ہو ،پس خوف کرتا ہو کہ اگر وہ روزہ رکھے گا تو اس کا مرض بڑھ جائے گا تو افطار کرے اور قضا کرے،  تشریح  بیمارکو روزہ رکھنے سے بیماری بڑھنے کا خطرہ ہو تو روزہ توڑ سکتا ہے اور بعد میں قضا کرے۔  
وجہ   یہ آیت ہے  فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ ومن کان مریضا او علی سفر فعدة من ایام اخر یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر (ج) (آیت ١٨٥ سورة البقرة٢ ) آیت سے معلوم ہوا کہ مرض ہویا سفر ہو تو روزہ توڑے گا اور دوسرے دنوں میں اس کی قضا کرے ۔
 فائدہ  امام شافعی کے نزدیک جان جانے کا یا عضو جانے کا خطرہ ہو تب افطار کرنے کی اجازت ہوگی۔

حاشیہ  :  (الف) حضرت ابراہیم نے فرمایا کوئی حرج کی بات نہیں ہے کہ عورت اپنے بچے کے لئے چبائے اس حال میں کہ وہ روزہ دار ہو۔ جب تک کہ اس کے حلق میں کوئی چیز داخل نہ ہو جائے(ب) حضرت ابراہیم سے منقول ہے کہ روزہ دار کے لئے علک چبانے میں رخصت دی ۔بشرطیکہ اس کے حلق میں کچھ داخل نہ ہو جائے(ج) جس کو رمضان کا مہینہ ملے اس کو روزہ رکھنا چاہئے ۔اور جو بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دن گنیں۔ اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتے ہیں ۔اللہ تمہارے ساتھ تنگی نہیں چاہتے۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 ( کتاب الطھارة ) 35 1
3 ( باب التیمم ) 73 2
4 (باب المسح علی الخفین) 82 2
5 (باب الحیض) 90 2
6 (باب الانجاس) 101 2
7 (کتاب الصلوة) 113 1
8 (باب الاذان) 121 7
9 (باب شروط الصلوة التی تتقدمھا) 127 7
10 (باب صفة الصلوة) 134 7
11 (باب قضاء الفوائت) 192 7
12 (باب الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة) 195 7
13 (باب النوافل) 200 7
14 (باب سجود السھو) 209 7
15 (باب صلوة المریض) 216 7
16 (باب سجود التلاوة) 221 7
17 (باب صلوة المسافر) 226 7
18 (باب صلوة الجمعة) 238 7
19 (باب صلوة العدین ) 250 7
20 ( باب صلوة الکسوف) 259 7
21 ( باب صلوة الاستسقائ) 263 7
22 ( باب قیام شہر رمضان) 265 7
23 (باب صلوة الخوف) 268 7
24 ( باب الجنائز) 273 7
25 ( باب الشہید) 291 7
26 ( باب الصلوة فی الکعبة) 295 7
27 ( کتاب الزکوة) 298 1
28 (باب زکوة الابل ) 303 27
29 (باب صدقة البقر ) 308 27
30 ( باب صدقة الغنم) 312 27
31 ( باب زکوة الخیل) 314 27
32 (باب زکوة الفضة) 322 27
33 ( باب زکوة الذھب ) 325 27
34 ( باب زکوة العروض) 326 27
35 ( باب زکوة الزروع والثمار ) 328 27
36 (باب من یجوز دفع الصدقة الیہ ومن لایجوز) 337 27
37 ( باب صدقة الفطر) 347 27
38 ( کتاب الصوم) 354 1
39 ( باب الاعتکاف) 378 38
40 ( کتاب الحج ) 383 1
41 ( باب القران ) 426 40
42 ( باب التمتع ) 433 40
43 ( باب الجنایات ) 442 40
44 ( باب الاحصار ) 471 40
45 ( باب الفوات ) 478 40
46 ( باب الھدی ) 481 40
Flag Counter