]٥٧٥[ (٢٥) ویکرہ للمرأة ان تمضغ لصبیھا الطعام اذا کان لھا منہ بد]٥٧٦[ (٢٦) ومضغ العلک لا یفطر الصائم ویکرہ]٥٧٧[(٢٧) ومن کان مریضا فی رمضان فخاف
]٥٧٥[(٢٥)عورت کے لئے مکروہ ہے کہ اپنے بچے کے لئے کھانا چبائے جب کہ اس کے لئے کوئی راستہ موجود ہو۔
تشریح اگر بچے کے کھانے کو چبانے کی ضرورت نہیں ہے تو اس کو چبانا مکروہ ہے۔ اور اگر اشد ضرورت پڑ جائے تو چبا سکتی ہے بشرطیکہ پیٹ میں کھانا نہ جائے۔
وجہ اثر میں ہے عن ابراہیم قال لا بأس ان تمضغ المرأة لصبیھا وھی صائمة مالم تدخل حلقھا (الف) ( مصنف ابن ابی شیبة ،٥٠ فی الصائمة تمضغ لصبیھا ج ثانی ص ٣٠٦،نمبر٩٢٩٣) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ضرورت پڑے تو عورت اپنے بچے کے لئے کھانا چبا سکتی ہے۔بشرطیکہ اس کے حلق میں کھانا نہ پہنچے ۔
لغت مضغ : چبانا۔
]٥٧٦[(٢٦) علک کے چبانے سے روزہ دار کا روزہ نہیں ٹوٹے گا لیکن مکروہ ہے۔
وجہ علک دانت صاف کرنے کے لئے عورتیں چباتی ہیں۔اس لئے اگر صر ف دانت صاف کرنے کے لئے چبا کر پھینک دیا اور حلق میں اس کا دانہ نہیں گیا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔کیونکہ پیٹ میں کوئی چیز نہیں گئی لیکن ایسا کرنا مکروہ ہے (٢) اثر میں ہے عن ابراہیم انہ رخص فی مضغ العلک للصائم مالم یدخلہ حلقہ (ب) (مصنف ابن ابی شیبة ،٣١ من رخص فی مضغ العلک للصائم،ج جلد ثانی،ص ٢٩٧،نمبر٩١٧٩) اس اثر سے معلوم ہوا کہ علک چبانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا بشرطیکہ کوئی چیز حلق میں نہ جائے۔
لغت العلک : چبانے کا گوند۔
]٥٧٧[(٢٧) جو رمضان میں بیمار ہو ،پس خوف کرتا ہو کہ اگر وہ روزہ رکھے گا تو اس کا مرض بڑھ جائے گا تو افطار کرے اور قضا کرے، تشریح بیمارکو روزہ رکھنے سے بیماری بڑھنے کا خطرہ ہو تو روزہ توڑ سکتا ہے اور بعد میں قضا کرے۔
وجہ یہ آیت ہے فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ ومن کان مریضا او علی سفر فعدة من ایام اخر یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر (ج) (آیت ١٨٥ سورة البقرة٢ ) آیت سے معلوم ہوا کہ مرض ہویا سفر ہو تو روزہ توڑے گا اور دوسرے دنوں میں اس کی قضا کرے ۔
فائدہ امام شافعی کے نزدیک جان جانے کا یا عضو جانے کا خطرہ ہو تب افطار کرنے کی اجازت ہوگی۔
حاشیہ : (الف) حضرت ابراہیم نے فرمایا کوئی حرج کی بات نہیں ہے کہ عورت اپنے بچے کے لئے چبائے اس حال میں کہ وہ روزہ دار ہو۔ جب تک کہ اس کے حلق میں کوئی چیز داخل نہ ہو جائے(ب) حضرت ابراہیم سے منقول ہے کہ روزہ دار کے لئے علک چبانے میں رخصت دی ۔بشرطیکہ اس کے حلق میں کچھ داخل نہ ہو جائے(ج) جس کو رمضان کا مہینہ ملے اس کو روزہ رکھنا چاہئے ۔اور جو بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دن گنیں۔ اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتے ہیں ۔اللہ تمہارے ساتھ تنگی نہیں چاہتے۔