ان صام ازداد مرضة افطر وقضی ]٥٧٨[(٢٨) وان کان مسافرا لا یستضر بالصوم فصومہ افضل وان افطر و قضی جاز ]٥٧٩[(٢٩) وان مات المریض اوالمسافر وھما
]٥٧٨[(٢٨)اگر مسافر ہے اور روزہ اس کو نقصان نہیں دیتا ہے تو اس کو روزہ رکھنا افضل ہے ۔اور اگر روزہ توڑ دیا اور قضا کیا تو بھی جائز ہے وجہ (١) حدیث میں ہے عن ابن عباس قال خرج رسول اللہ ۖ من المدینة الی مکة فصام حتی بلغ عسفان ثم دعا بماء فرفعہ الی یدہ لیرہ الناس فافطر حتی قدم مکة وذلک فی رمضان فکان ابن عباس یقول قد صام رسول اللہ وافطر ممن شاء صام ومن شاء افطر (الف) (بخاری شریف ، باب من افطر فی السفر لیراہ الناس ص ٢٦١ نمبر ١٩٤٨ مسلم شریف ، باب جواز الصوم والافطار فی شہر رمضان للمسافر ص١١١٣) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مشقت نہ بھی ہو تب بھی مسافر کے لئے گنجائش ہے کہ افطار کرے یا روزہ رکھے (٢) سفر میں عموما مشقت ہوتی ہے اس لئے سفر کو مشقت کے درجہ میں رکھ دیا اس لئے مسافر کو روزہ رکھنے میں مشقت نہ بھی ہوتب بھی افطار کر سکتا ہے۔اور مشقت نہ ہو تو روزہ رکھنا افضل ہے کیونکہ رمضان کی فضیلت بہت بڑی چیز ہے جو بعد میں نہیں ملے گی (٢) بعد میں تنہا روزہ قضا کرنے میں پریشانی ہوتی ہے اس لئے بہتر ہے کہ ابھی سب کے ساتھ ادا کرلے۔ حدیث میں ہے عن ابی درداء قال خرجنا مع رسول اللہ ۖ فی شہر رمضان فی حر شدید حتی کان احدنا لیضع یدہ علی رأسہ من شدة الحر وما فینا صائم الا رسول اللہ ۖ وعبد اللہ بن رواحة (ب) ( مسلم شریف ، باب جواز الصوم والفطر فی شہر رمضان للمسافر ص ٣٥٧ نمبر ١١٢٢ ابو داؤد شریف ، باب فی اختیار الصیام ص ٣٣٤ نمبر ٢٤٠٩) اس حدیث میں سخت گرمی کے با وجود حضورۖ اور عبد اللہ بن رواحہ نے روزہ رکھا۔ اسی لئے کہ رمضان میں مشقت شدیدہ نہ ہو تو روزہ رکھنا افضل ہے۔
نوٹ مشقت شدیدہ ہوتو افطار کرنا بہتر ہے۔ حدیث میں ہے عن جابر بن عبد اللہ عن النبی ۖ رای رجلا یظلل علیہ والزحام علیہ فقال لیس من البر الصیام فی السفر (ج) (ابو داؤد شریف ، باب اختیار الفطر ص ٣٣٤ نمبر ٢٤٠٧ مسلم شریف ، باب جواز الصوم فی شہر رمضان للمسافر ص ٣٥٦ نمبر ١١١٥) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مشقت شدیدہ میں افطار کرنا افضل ہے۔
لغت یستضر : ضر سے مشرق ہے نقصان دینا۔
]٥٧٩[(٢٩)اگر مریض اور مسافر مر گئے اور دونوں اپنی اپنی حالت پر تھے تو ان دونوں کو قضا لازم نہیں ہے۔
تشریح مریض کا مثلا دس روز رمضان کے روزے چھوٹے تھے اور ابھی مرض کی ہی حالت میں تھا ، اس کو اس روزے کی قضا کرنے کا موقع
حاشیہ : (الف) آپۖ مدینہ سے مکہ کی طرف نکلے ۔پس روزہ رکھا یہاں تک کہ مقام عسفان پہنچے پھر پانی منگوایا اور اس کو اپنے ہاتھ کی طرف اٹھایا تاکہ لوگ دیکھ لیں اور آپۖ نے روزہ توڑا۔یہاں تک کہ مکہ تشریف لائے اور یہ رمضان کے مہینہ میں تھا۔ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضورۖ نے سفر میں روزہ بھی رکھا اور افطار بھی کیا۔پس جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے افطار کرے(ب) ہم حضورۖ کے ساتھ رمضان کے مہینہ میں سخت گرمی میں نکلے ۔یہاں تک کہ ہم میں سے ایک سخت گرمی کی وجہ سے اپنے ہاتھ کو اپنے سر پر رکھتا تھا۔ہم میں سے کوئی روزہ دار نہیں تھا سوائے رسول اللہ ۖ اور عبد اللہ بن رواحہ کے(ج) آپۖ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس پر سایہ کیا جا رہا تھا اور اس پر بھیڑ تھی تو آپۖ نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا نیکی میں نہیں ہے(یعنی مشقت شدیدہ ہوتو)