Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 1 - یونیکوڈ

365 - 493
بدواء رطب فوصل الی جوفہ او دماغہ افطر ]٥٧٣[(٢٣) وان اقطر فی احلیلہ لم یفطر عند ابی حنفة و محمد وقال ابو یوسف یفطر ]٥٧٤[(٢٤) ومن ذاق شیئا بفمہ لم یفطر ویکرہ لہ ذلک۔

اثر سے معلوم ہوا کہ کوئی چیز بدن میں داخل کرنے سے دوسرے دن روزہ قضا رکھے۔ البتہ اس دن بھی روزہ پورا کرے چھوڑے نہیں۔  
لغت  احتقن  :  پاخانہ کے راستے سے دوا پیٹ میں ڈالنا۔  آمة  :  دماغ کا گہرا زخم جو دماغ کے اندر تک پہنچ رہا ہو۔  رطب  :  تر۔ تر دواکی قید اس لئے لگائی کہ تر دوا زخم کی رطوبت کے ساتھ مل کر پیٹ یا دماغ تک پہنچ جاتی ہے۔ جب کہ خشک دوا زخم کی رطوبت کو اور مزید خشک کر دیتی ہے اس لئے وہ آنت تک نہیں پہنچ پاتی۔ اس لئے خشک کے لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔  
فائدہ  صاحبین کے نزدیک تر دوا لگانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ آنت تک پہنچنا اور دماغ تک پہنچنا کوئی یقینی نہیں ہے۔  
اصول  دوا یا غذا دماغ یا پیٹ تک پہنچ جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
]٥٧٣[(٢٣) اگر پیشاب گاہ میں قطرہ ڈالا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک اور امام ابو یوسف نے فرمایا روزہ ٹوٹ جائے گا۔  
وجہ  امام ابو حنیفہ کا نظریہ یہ ہے کہ پیشاب گاہ کے سوراخ کا منفذ آنت تک نہیں ہے۔بلکہ درمیان میں مثانہ حائل ہے اس سے مترشح ہوکر پیشاب آتا ہے۔ اس لئے کوئی دوا یا پانی پیشاب گاہ کے سوراخ میں ڈالے تو وہ آنت تک نہیں پہنچے گی۔ اس لئے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔  
فائدہ  امام ابو یوسف کا نظریہ یہ ہے کہ پیشاب گاہ کا سوراخ برارہ راست آنت تک پہنچتا ہے۔اسی لئے آنت میں گیا ہوا پانی پیشاب کے راستہ سے نکلتا ہے۔ اس لئے جو پانی یا دوا پیشاب گاہ کے سوراخ میں ڈالے گا وہ آنت تک پہنچ جائے گی۔اس لئے روزہ ٹوٹ جائے گا۔  
نوٹ  اس مسئلہ کا دارو مدار ڈاکٹری تحقیق پر ہے اور ڈاکٹری تحقیق یہ ہے کہ پیشاب گاہکا سوراخ برارہ راست آنت تک نہیں ہے اس لئے طرفین کے مسلک کے موافق روزہ نہیں ٹوٹے گا۔  
لغت  احلیل  :  پیشاب گاہ کا سوراخ۔
]٥٧٤[(٢٤) اگر کسی نے منہ سے کچھ چکھ لیا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا لیکن یہ مکروہ ہے۔  
وجہ  صرف منہ سے چکھنے سے پیٹ میں کوئی چیز نہیں گئی اس لئے روزہ نہیں ٹوٹے گا لیکن ممکن ہے کہ کبھی کوئی چیز پیٹ میں چلی جائے اور روزہ ٹوٹ جائے اس لئے بغیر ضرورت کے ایسا کرنا مکروہ ہے(٢) اثر میں ہے  عن ابن عباس قال لا بأس ان یتطاعم الصائم بالشیء یعنی المرقة و نحوھا (الف) (سنن للبیھقی ، باب الصائم یذوق شیئا ج رابع ص٤٣٥،نمبر٨٢٥٤) اس اثر سے معلوم ہوا کہ شوربہ وغیرہ چکھنے سے روزہ نہیں ٹوٹے گابشرطیکہ پیٹ میں کوئی چیز نہ جائے۔

حاشیہ  :  (الف) حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا کہ کوئی حرج کی بات نہیں ہے کہ روزہ دار کوئی چیز چکھے یعنی شوربہ وغیرہ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 ( کتاب الطھارة ) 35 1
3 ( باب التیمم ) 73 2
4 (باب المسح علی الخفین) 82 2
5 (باب الحیض) 90 2
6 (باب الانجاس) 101 2
7 (کتاب الصلوة) 113 1
8 (باب الاذان) 121 7
9 (باب شروط الصلوة التی تتقدمھا) 127 7
10 (باب صفة الصلوة) 134 7
11 (باب قضاء الفوائت) 192 7
12 (باب الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة) 195 7
13 (باب النوافل) 200 7
14 (باب سجود السھو) 209 7
15 (باب صلوة المریض) 216 7
16 (باب سجود التلاوة) 221 7
17 (باب صلوة المسافر) 226 7
18 (باب صلوة الجمعة) 238 7
19 (باب صلوة العدین ) 250 7
20 ( باب صلوة الکسوف) 259 7
21 ( باب صلوة الاستسقائ) 263 7
22 ( باب قیام شہر رمضان) 265 7
23 (باب صلوة الخوف) 268 7
24 ( باب الجنائز) 273 7
25 ( باب الشہید) 291 7
26 ( باب الصلوة فی الکعبة) 295 7
27 ( کتاب الزکوة) 298 1
28 (باب زکوة الابل ) 303 27
29 (باب صدقة البقر ) 308 27
30 ( باب صدقة الغنم) 312 27
31 ( باب زکوة الخیل) 314 27
32 (باب زکوة الفضة) 322 27
33 ( باب زکوة الذھب ) 325 27
34 ( باب زکوة العروض) 326 27
35 ( باب زکوة الزروع والثمار ) 328 27
36 (باب من یجوز دفع الصدقة الیہ ومن لایجوز) 337 27
37 ( باب صدقة الفطر) 347 27
38 ( کتاب الصوم) 354 1
39 ( باب الاعتکاف) 378 38
40 ( کتاب الحج ) 383 1
41 ( باب القران ) 426 40
42 ( باب التمتع ) 433 40
43 ( باب الجنایات ) 442 40
44 ( باب الاحصار ) 471 40
45 ( باب الفوات ) 478 40
46 ( باب الھدی ) 481 40
Flag Counter