بدواء رطب فوصل الی جوفہ او دماغہ افطر ]٥٧٣[(٢٣) وان اقطر فی احلیلہ لم یفطر عند ابی حنفة و محمد وقال ابو یوسف یفطر ]٥٧٤[(٢٤) ومن ذاق شیئا بفمہ لم یفطر ویکرہ لہ ذلک۔
اثر سے معلوم ہوا کہ کوئی چیز بدن میں داخل کرنے سے دوسرے دن روزہ قضا رکھے۔ البتہ اس دن بھی روزہ پورا کرے چھوڑے نہیں۔
لغت احتقن : پاخانہ کے راستے سے دوا پیٹ میں ڈالنا۔ آمة : دماغ کا گہرا زخم جو دماغ کے اندر تک پہنچ رہا ہو۔ رطب : تر۔ تر دواکی قید اس لئے لگائی کہ تر دوا زخم کی رطوبت کے ساتھ مل کر پیٹ یا دماغ تک پہنچ جاتی ہے۔ جب کہ خشک دوا زخم کی رطوبت کو اور مزید خشک کر دیتی ہے اس لئے وہ آنت تک نہیں پہنچ پاتی۔ اس لئے خشک کے لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
فائدہ صاحبین کے نزدیک تر دوا لگانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ آنت تک پہنچنا اور دماغ تک پہنچنا کوئی یقینی نہیں ہے۔
اصول دوا یا غذا دماغ یا پیٹ تک پہنچ جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
]٥٧٣[(٢٣) اگر پیشاب گاہ میں قطرہ ڈالا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک اور امام ابو یوسف نے فرمایا روزہ ٹوٹ جائے گا۔
وجہ امام ابو حنیفہ کا نظریہ یہ ہے کہ پیشاب گاہ کے سوراخ کا منفذ آنت تک نہیں ہے۔بلکہ درمیان میں مثانہ حائل ہے اس سے مترشح ہوکر پیشاب آتا ہے۔ اس لئے کوئی دوا یا پانی پیشاب گاہ کے سوراخ میں ڈالے تو وہ آنت تک نہیں پہنچے گی۔ اس لئے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
فائدہ امام ابو یوسف کا نظریہ یہ ہے کہ پیشاب گاہ کا سوراخ برارہ راست آنت تک پہنچتا ہے۔اسی لئے آنت میں گیا ہوا پانی پیشاب کے راستہ سے نکلتا ہے۔ اس لئے جو پانی یا دوا پیشاب گاہ کے سوراخ میں ڈالے گا وہ آنت تک پہنچ جائے گی۔اس لئے روزہ ٹوٹ جائے گا۔
نوٹ اس مسئلہ کا دارو مدار ڈاکٹری تحقیق پر ہے اور ڈاکٹری تحقیق یہ ہے کہ پیشاب گاہکا سوراخ برارہ راست آنت تک نہیں ہے اس لئے طرفین کے مسلک کے موافق روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
لغت احلیل : پیشاب گاہ کا سوراخ۔
]٥٧٤[(٢٤) اگر کسی نے منہ سے کچھ چکھ لیا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا لیکن یہ مکروہ ہے۔
وجہ صرف منہ سے چکھنے سے پیٹ میں کوئی چیز نہیں گئی اس لئے روزہ نہیں ٹوٹے گا لیکن ممکن ہے کہ کبھی کوئی چیز پیٹ میں چلی جائے اور روزہ ٹوٹ جائے اس لئے بغیر ضرورت کے ایسا کرنا مکروہ ہے(٢) اثر میں ہے عن ابن عباس قال لا بأس ان یتطاعم الصائم بالشیء یعنی المرقة و نحوھا (الف) (سنن للبیھقی ، باب الصائم یذوق شیئا ج رابع ص٤٣٥،نمبر٨٢٥٤) اس اثر سے معلوم ہوا کہ شوربہ وغیرہ چکھنے سے روزہ نہیں ٹوٹے گابشرطیکہ پیٹ میں کوئی چیز نہ جائے۔
حاشیہ : (الف) حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا کہ کوئی حرج کی بات نہیں ہے کہ روزہ دار کوئی چیز چکھے یعنی شوربہ وغیرہ۔