الفرج فانزل علیہ القضاء ولا کفارة علیہ]٥٧١[(٢١) ولیس فی افساد الصوم فی غیر
رمضان کفارة ]٥٧٢[(٢٢) ومن احتقن او استعط او اقطر فی اذنہ او داوی جائفة او آمة
شدیدا یعنی یصوم یوما مکانہ و ھذا عندنا فیہ اذا قبل فانزل (الف)(سنن للبیھقی ، باب وجوب القضا علی من قبل فانزل ج رابع ص ،٣٩٥،نمبر٨١٠٦) اس اثر سے معلوم ہوا کہ فرج کے علاوہ میں جماع کرنے سے منی نکل جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
]٥٧١[(٢١)رمضان کے علاوہ کے روزے توڑنے میں کفارہ نہیں ہے۔
وجہ (١) رمضان کا روزہ فرض ہے اس کے علاوہ کا روزہ فرض نہیں ہے ۔اور نہ اس کی اتنی اہمیت ہے ۔اس لئے رمضان کے علاوہ کا روزہ توڑدے توصرف قضا لازم ہوگی۔ کفارہ لازم نہیں ہوگا (٢) حدیث میں جو کفارہ کا ذکر ہے وہ رمضان کے روزے توڑنے میں ہے دوسرے روزے میں نہیں۔ اس لئے دوسرے روزے کو اس پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔ اور کفارہ لازم نہیں ہوگا۔غیر رمضان میں روزہ توڑنے سے کفارہ لازم نہیں ہوگا صرف قضا لازم ہوگی اس کی دلیل یہ حدیث ہے عن عائشة قالت ... فقال رسول اللہ ۖلا علیکما صومامکانہ یوما آخر (ابو داؤد شریف، باب من رای علیہ القضاء ص ٣٤٠ نمبر ٢٤٥٧ ترمذی شریف، باب ماجاء فی ایجاب القضاء علیہ ،ص ١٥٥، نمبر ٧٣٥) اس حدیث میں نفلی روزہ توڑنے پر صرف قضا لازم کی گئی ہے۔
]٥٧٢[(٢٢)جس نے حقنہ لیا یا ناک میں دوا ڈالی یا کان میں قطرہ ٹپکایا یا پیٹ کے زخم کی دوا کی یا دماغ کے زخم کی تر دوا کی اور وہ پیٹ تک پہنچ گئی یا دماغ تک پہنچ گئی تو روزہ ٹوٹ جائے گا ۔
وجہ کوئی بھی کھانے پینے کی چیزیا دوا کی چیز دماغ تک یا آنت تک پہنچ جائے تو اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اوپر کی صورتوں میں منفذ اور سوراخ کے ذریعہ دوا یا پانی آنت اور دماغ تک پہنچ رہے ہیں اس لئے روزہ ٹوٹ جائے گا(٢) اثر میں ہے قال ابن عباس و عکرمة الصوم مما دخل ولیس مما خرج (بخاری شریف ، باب الحجامة والقییٔ للصائم ص ٢٦٠ نمبر ١٩٣٨ سنن للبیھقی ، باب الافطار بالطعام وبغیر الطعام اذا ازدردہ عامدا او بالسعوط والاحتقان وغیر ذلک مما یدخل جوفہ باختیارہ ج رابع ص ٢٦١) اس اثر سے معلوم ہوا کہ کوئی چیز داخل ہو جائے تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا اور داخل ہونے کا مطلب پیٹ میں یا دماغ میں داخل ہونا ہے جو اصل ہیں۔حقنہ کے بارے میں اثر موجود ہے عن الثوری قال یفطر الذی یحتقن بالخمر ولا یضرب الحد (ب)(مصنف عبد الرزاق ، باب الحقنة فی رمضان والرجل یصیب اہلہ ج رابع ص ١٩٩ نمبر ٧٤٧٨) عن عطاء کرہ ان یستدخل الانسان شیئا فی رمضان بالنھار فان فعل فلیبدل یوما ولا یفطر ذلک الیوم (ج) (مصنف عبد الرزاق ، باب الحقنة فی رمضان والرجل یصیب اہلہ ص ١٩٩ نمبر ٧٤٧٧) اس
حاشیہ : (الف) حضرت عبد اللہ ابن مسعود نے روزہ دار کے لئے بوسہ لینے کے بارے میں سخت بات کہی۔ یعنی اس کی جگہ ایک روزہ رکھے گا اور یہ ہمارے نزدیک اس وقت ہے جب بوسہ لے اور انزال ہو جائے(ب) حضرت ثوری سے منقول ہے کہ فرمایا روزہ ٹوٹ جائے گا اس کا جس نے شراب کے ذریعہ حقنہ لگوایا لیکن حد نہیں لگائی جائے گی (ج) حضرت عطا ء سے منقول ہے کہ مکروہ ہے کہ انسان کوئی چیز رمضان کے دن میں داخل کرے ۔پس اگر کیا تو ایک دن بدل لے یعنی دوسرے دن روزہ رکھے اور اس دن افطار نہ کرے۔