والکفارة]٥٦٩[ (١٩)والکفارة مثل کفارة الظھار]٥٧٠[ (٢٠)ومن جامع فیما دون
توڑنا پایا گیا(٤) اس بارے میں مطلق حدیث ہے کہ کسی بھی طرح افطار کرے تو کفارہ لازم ہے۔ حدیث میں ہے عن ابی ھریرة ان رجلا افطر فی رمضان فامرہ رسول اللہ ۖ ان یعتق رقبة او یصوم شہرین متتابعین او یطعم ستین سکینا الخ (الف) (ابو داأد شریف، کفارة من اتی اھلہ فی رمضان ص ٣٣٢ نمبر ٢٣٩٢) دار قطنی ، باب القبلة للصائم ج ثانی ص ١٧٠ نمبر ٢٢٨٣ ٢٢٨٤) اس حدیث میں ہے کہ کسی بھی طرح رمضان کا روزہ توڑا ہو چاہے کھا پی کر اس پر کفارہ لازم ہے۔دار قطنی کی حدیث نمبر ٢٢٨٤ میں ان رجلا اکل فی رمضان فامرہ النبی ۖ ان یعتق رقبة الخ کی عبارت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کھانے سے بھی کفارہ لازم ہوگا ۔
فائدہ امام شافعی فرماتے ہیں کہ صرف جماع سے توڑا ہو تو کفارہ لازم ہوگا۔ اور کھا پی کر توڑا ہو تو کفارہ لازم نہیں ہوگا۔صرف قضا لازم ہوگی۔ وجہ پہلی حدیث میں جماع کرکے توڑنے پر کفارہ لازم کیا گیا ہے۔اور دوسری حدیث میں بھی اسی کا جز ہے اس لئے کھانے پینے سے توڑنے کو جماع پر قیاس نہیں کیا جائے گا ۔
فائدہ امام ابو حنیفہ کی ایک روایت یہ ہے کہ پاخانہ کے مقام میں جماع کرنے سے کفارہ لازم نہیں ہوگا کیونکہ اس میں اتنی شہوت پوری نہیں ہوتی جتنی شرمگاہ میں ہوتی ہے (٢) اور جس طرح اس میں جماع کرنے سے حد لازم نہیں ہوتی اسی طرح کفارہ بھی لازم نہیں ہوگا۔
]٥٦٩[(١٩)اور روزہ توڑنے کا کفارہ ظہار کے کفارہ کی طرح ہے۔
تشریح کفارۂ ظہار غلام آزاد کرنا ہے،وہ نہ ہوتو ساٹھ روز مسلسل روزے رکھنا ہے،اور وہ نہ ہو سکے تو ساٹھ مسکین کو کھانا کھلانا ہے ۔رمضان کا روزہ توڑنے میں بھی یہی کفارہ لازم ہوگا۔
وجہ مسئلہ نمبر ١٨ میں بخاری شریف کی حدیث گزری جس میں کفارہ کی یہ تفصیل موجود تھی۔اسی سے کفارہ کی تفصیل لازم ہے۔ اور کفارۂ ظہار کی تفصیل سورہ ٔمجادلة ٥٨ ّیت نمبر ٣ اور ٤ میں ہے۔
]٥٧٠[(٢٠) جس نے جماع کیا فرج کے علاوہ میں اور انزال ہوا تو اس پر قضا ہے کفارہ نہیں ہے۔
وجہ یہاں فرج سے مراد شرمگاہ اور پاخانہ کے راستے کے علاوہ ہے۔اس لئے ان دونوں کے علاوہ جگہ مثلا ران وغیرہ میں جماع کیا اور انزال ہوا تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا لازم ہوگی۔کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ کیونکہ ان مقامات پر شہوت کاملہ نہیں ہے۔ حدیث میں ہے عن میمونة مولاة النبی ۖ ان النبی ۖ سئل عن صائم قبل فقال افطر (ب) (مصنف ابن ابی شیبة ٦٠ من کرہ القبلة للصائم ولم یرخص فیھا ج ثانی ص ٣١٧،نمبر ٩٤٢٦) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بوسہ لینے سے روزہ ٹوٹ جائے گا تو غیر فرج میں جماع کرے اور انزال ہو جائے تو بدرجۂ اولی روزہ ٹوٹے گا۔کیونکہ یہ تو اعلی درجہ کی حرکت ہوئی (٢)اثر میں ہے ان ابن مسعود قال فی القبلة للصائم قولا
حاشیہ : (الف) ایک آدمی نے رمضان کے مہینہ میں روزہ توڑا تو حضورۖ نے ان کوحکم دیا کہ غلام آزاد کرے، یا دو ماہ مسلسل روزے رکھے یا ساٹھ مسکین کو کھانا کھلائے۔(ب) آپۖ سے پوچھا گیا روزہ دار کے بارے میں کہ بوسہ لے لے تو کہا روزہ ٹوٹ گیا۔