]٥٦٧[(١٧) ومن ابتلع الحصاة او الحدید او النواة افطر وقضی]٥٦٨[(١٨) ومن جامع عامدا فی احد السبیلین او اکل او شرب ما یتغذی بہ او یتداوی بہ فعیلہ القضاء
فائدہ امام محمد فرماتے ہیں کہ حدیث میں مطلق قے کرنے سے روزہ ٹوٹنے کا حکم ہے اس لئے تھوڑی قے بھی ہوتو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ نوٹ کفارہ لازم اس لئے نہیں ہوگا کہ باضابطہ کھانا کھانا نہیں پایا گیا۔
]٥٦٧[(١٧) کسی نے کنکری نگلی یالوہا یاگٹھلی نگلی تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا کرے ۔
وجہ اگر چہ یہ چیزیں کھانے کی نہیں ہیں لیکن صورةً کھانا ہے اس لئے روزہ ٹوٹ جائے گا۔لیکن حقیقت میں یہ چیزیں کھانے کی نہیں ہے اس لئے مکمل کھانا نہیں پایا گیا اس لئے کفارہ لازم نہیں ہوگا(٢) اثر میں یہ الفاظ ہیں۔ عن ابراہیم انہ رخص فی مضغ العلک للصائم مالم یدخلہ حلقہ (الف) (مصنف ابن ابی شیبة ٣١ من رخص فی مضغ العلک للصائم ج ثانی ص ٢٩٧،نمبر٩١٧٩) اس اثر میںہے کہ علک چبائے اور حلق میں نہ جائے تو کوئی حرج نہیں ہے جس کا مفہوم مخالف یہ ہوگا کہ اگر حلق میں گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اور علک دانت صاف کرنے کے لئے چبانے کی چیز ہے۔ عام طور پر غذا یا دوا کے طور پر کھانے کی چیز نہیں ہے۔ اور اسی پر ان تمام چیزوں کو قیاس کیا جائے جو عام طور پر غذایا دوا کے طور کھانے کی چیز نہیں ہے۔
لغت الحصاة : کنکری۔ النواة : گٹھلی۔
]٥٦٨[(١٨) کسی نے جماع کیا جان بوجھ کر دوراستوں میں سے ایک میں یا کھایا یا پیا ایسی چیز جس سے غذا حاصل کی جاتی ہو یا اس سے دوا کی جاتی ہو تو اس پر قضا ہے اور کفارہ ہے۔
تشریح شرمگاہ میں یا پاخانہ کے راستہ میں روزے کی حالت میں جان بوجھ کر جماع کیا تو قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوںگے۔
وجہ ان دونوں مقامات پر شہوت کاملہ ہوتی ہے۔اس لئے روزہ بھی ٹوٹے گا اور کفارہ بھی لازم ہوگا (٢) حدیث میں ہے ان ابا ھریرة قال بینما نحن جلوس عند النبی ۖ اذ جاء ہ رجل فقال یا رسول اللہ ھلکت قال مالک قال وقعت علی امرأتی وانا صائم فقال رسول اللہ ۖ ھل تجد رقبة تعتقھا قال لا قال فھل تستطیع ان تصوم شہرین متتابعین قال لا قال فھل تجد اطعام ستین مسکینا قال لا قال فمکث الخ (ب) (بخاری شریف ، باب اذا جامع فی رمضان ولم یکن لہ شیء فتصدق علیہ فلیکفر ص ٢٥٩ نمبر ١٩٣٦ ابو داؤد شریف ، کفارة من اتی اہلہ فی رمضان ص ٣٣٢ نمبر ٢٣٩٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رمضان کے روزے میں جماع کرکے روزہ توڑے تو اس پر کفارہ لازم ہے (٣)اور اسی پر کھانے پینے کو قیاس کیا جائے کیونکہ اس صورت میں بھی جان بوجھ کر روزہ
حاشیہ : (الف) ابراہیم سے منقول ہے کہ انہوں نے روزہ دار کو علک چبانے کے بارے میں رخصت دی جب تک کہ وہ حلق میں داخل نہ ہو جائے(ب) اس درمیان کے ہم حضورۖ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اچانک ایک آدمی آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول ! میں ہلاک ہو گیا۔ آپۖ نے فرمایا کیا ہوا ؟ کہا میںنے روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا۔آپۖ نے فرمایا کیا تمہارے پاس غلام ہے جس کو آزاد کر سکو؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپۖ نے فرمایا کہ تم طاقت رکھتے ہو کہ دو ماہ مسلسل روزے رکھو ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ آپۖ نے فرمایا کیا کھانا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ؟ انہوں نے کہا نہیں۔