Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 1 - یونیکوڈ

362 - 493
]٥٦٧[(١٧) ومن ابتلع الحصاة او الحدید او النواة افطر وقضی]٥٦٨[(١٨) ومن جامع عامدا فی احد السبیلین او اکل او شرب ما یتغذی بہ او یتداوی بہ فعیلہ القضاء 

فائدہ  امام محمد فرماتے ہیں کہ حدیث میں مطلق قے کرنے سے روزہ ٹوٹنے کا حکم ہے اس لئے تھوڑی قے بھی ہوتو روزہ ٹوٹ جائے گا۔  نوٹ  کفارہ لازم اس لئے نہیں ہوگا کہ باضابطہ کھانا کھانا نہیں پایا گیا۔
]٥٦٧[(١٧) کسی نے کنکری نگلی یالوہا یاگٹھلی نگلی تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا کرے ۔
 وجہ  اگر چہ یہ چیزیں کھانے کی نہیں ہیں لیکن صورةً کھانا ہے اس لئے روزہ ٹوٹ جائے گا۔لیکن حقیقت میں یہ چیزیں کھانے کی نہیں ہے اس لئے مکمل کھانا نہیں پایا گیا اس لئے کفارہ لازم نہیں ہوگا(٢) اثر میں یہ الفاظ ہیں۔  عن ابراہیم انہ رخص فی مضغ العلک للصائم مالم یدخلہ حلقہ (الف) (مصنف ابن ابی شیبة ٣١ من رخص فی مضغ العلک للصائم ج ثانی ص ٢٩٧،نمبر٩١٧٩) اس اثر میںہے کہ علک چبائے اور حلق میں نہ جائے تو کوئی حرج نہیں ہے جس کا مفہوم مخالف یہ ہوگا کہ اگر حلق میں گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اور علک دانت صاف کرنے کے لئے چبانے کی چیز ہے۔ عام طور پر غذا یا دوا کے طور پر کھانے کی چیز نہیں ہے۔ اور اسی پر ان تمام چیزوں کو قیاس کیا جائے جو عام طور پر غذایا دوا کے طور کھانے کی چیز نہیں ہے۔  
لغت  الحصاة  : کنکری۔  النواة  :  گٹھلی۔
]٥٦٨[(١٨) کسی نے جماع کیا جان بوجھ کر دوراستوں میں سے ایک میں یا کھایا یا پیا ایسی چیز جس سے غذا حاصل کی جاتی ہو یا اس سے دوا کی جاتی ہو تو اس پر قضا ہے اور کفارہ ہے۔  
تشریح   شرمگاہ میں یا پاخانہ کے راستہ میں روزے کی حالت میں جان بوجھ کر جماع کیا تو قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوںگے۔  
وجہ  ان دونوں مقامات پر شہوت کاملہ ہوتی ہے۔اس لئے روزہ بھی ٹوٹے گا اور کفارہ بھی لازم ہوگا (٢) حدیث میں ہے  ان ابا ھریرة قال بینما نحن جلوس عند النبی ۖ اذ جاء ہ رجل فقال یا رسول اللہ ھلکت قال مالک قال وقعت علی امرأتی وانا صائم فقال رسول اللہ ۖ ھل تجد رقبة تعتقھا قال لا قال فھل تستطیع ان تصوم شہرین متتابعین قال لا قال فھل تجد اطعام ستین مسکینا قال لا قال فمکث الخ (ب) (بخاری شریف ، باب اذا جامع فی رمضان ولم یکن لہ شیء فتصدق علیہ فلیکفر ص ٢٥٩ نمبر ١٩٣٦ ابو داؤد شریف ، کفارة من اتی اہلہ فی رمضان ص ٣٣٢ نمبر ٢٣٩٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رمضان کے روزے میں جماع کرکے روزہ توڑے تو اس پر کفارہ لازم ہے (٣)اور اسی پر کھانے پینے کو قیاس کیا جائے کیونکہ اس صورت میں بھی جان بوجھ کر روزہ 

حاشیہ  :  (الف) ابراہیم سے منقول ہے کہ انہوں نے روزہ دار کو علک چبانے کے بارے میں رخصت دی جب تک کہ وہ حلق میں داخل نہ ہو جائے(ب) اس درمیان کے ہم حضورۖ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اچانک ایک آدمی آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول ! میں ہلاک ہو گیا۔ آپۖ نے فرمایا کیا ہوا ؟ کہا میںنے روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا۔آپۖ نے فرمایا کیا تمہارے پاس غلام ہے جس کو آزاد کر سکو؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپۖ نے فرمایا کہ تم طاقت رکھتے ہو کہ دو ماہ مسلسل روزے رکھو ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ آپۖ نے فرمایا کیا کھانا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ؟ انہوں نے کہا نہیں۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 ( کتاب الطھارة ) 35 1
3 ( باب التیمم ) 73 2
4 (باب المسح علی الخفین) 82 2
5 (باب الحیض) 90 2
6 (باب الانجاس) 101 2
7 (کتاب الصلوة) 113 1
8 (باب الاذان) 121 7
9 (باب شروط الصلوة التی تتقدمھا) 127 7
10 (باب صفة الصلوة) 134 7
11 (باب قضاء الفوائت) 192 7
12 (باب الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة) 195 7
13 (باب النوافل) 200 7
14 (باب سجود السھو) 209 7
15 (باب صلوة المریض) 216 7
16 (باب سجود التلاوة) 221 7
17 (باب صلوة المسافر) 226 7
18 (باب صلوة الجمعة) 238 7
19 (باب صلوة العدین ) 250 7
20 ( باب صلوة الکسوف) 259 7
21 ( باب صلوة الاستسقائ) 263 7
22 ( باب قیام شہر رمضان) 265 7
23 (باب صلوة الخوف) 268 7
24 ( باب الجنائز) 273 7
25 ( باب الشہید) 291 7
26 ( باب الصلوة فی الکعبة) 295 7
27 ( کتاب الزکوة) 298 1
28 (باب زکوة الابل ) 303 27
29 (باب صدقة البقر ) 308 27
30 ( باب صدقة الغنم) 312 27
31 ( باب زکوة الخیل) 314 27
32 (باب زکوة الفضة) 322 27
33 ( باب زکوة الذھب ) 325 27
34 ( باب زکوة العروض) 326 27
35 ( باب زکوة الزروع والثمار ) 328 27
36 (باب من یجوز دفع الصدقة الیہ ومن لایجوز) 337 27
37 ( باب صدقة الفطر) 347 27
38 ( کتاب الصوم) 354 1
39 ( باب الاعتکاف) 378 38
40 ( کتاب الحج ) 383 1
41 ( باب القران ) 426 40
42 ( باب التمتع ) 433 40
43 ( باب الجنایات ) 442 40
44 ( باب الاحصار ) 471 40
45 ( باب الفوات ) 478 40
46 ( باب الھدی ) 481 40
Flag Counter