]٥٦٤[ (١٤)ولا بأس بالقبلة اذا امن علی نفسہ ]٥٦٥[(١٥)ویکرہ ان لم یامن]٥٦٦[(١٦) وان ذرعہ القییٔ لم یفطر وان استقاء عامدا ملأ فمہ فعلیہ القضاء
وجہ چونکہ مکمل جماع صورة اور معنًی نہیں پایا گیا اس لئے کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ کیونکہ کفارہ شبہات سے ساقط ہوجاتا ہے ۔لیکن جماع کی شکل پائی گئی اور منی نکالنے میں اس کو دخل ہے اس لئے قضا لازم ہوگی(٢) اثر میں ہے عن الحسن فی الرجل یقبل نھارا فی رمضان ... وقال قتادة ان خرج منہ الدافق فلیس علیہ الا ان یصوم یوما (الف) (مصنف عبد الرزاق ، باب الرفث واللمس وھو صائم ج رابع ص ١٩٢ نمبر ٨٤٥٠) (٢)عن میمونة مولاة النبی ۖ ان النبی ۖ سئل عن صائم قبل فقال افطر (ب) (مصنف ابن ابی شیبة ،٦٠ من کرہ القبلة للصائم ولم یرخص فیھا ج ثانی ص ،٣١٧،نمبر٩٤٢٦ ٦٩ ماقالوا فی الصائم یفطر حین یمنی ص،٣٢٢،نمبر٩٤٧٩) ان اثر اور حدیث سے معلوم ہوا کہ بوسہ لینے سے انزال ہو جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔کفارہ لازم نہیں ہوگا۔
]٥٦٤[(١٤)بوسہ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر اپنی ذات پر قابو ہو۔
وجہ پہلے مسئلہ نمبر ١٢ میں حدیث اور وجہ گزر گئی ہے۔
]٥٦٥[(١٥) بوسہ لینا مکروہ ہے اگر نفس پر اعتماد نہ ہو۔
وجہ (١) اگر جوان ہے اور نفس پر اعتماد نہیں ہے تو روزہ کی حالت میں بوسہ لینا مکروہ ہے۔کیونکہ خطرہ ہے کہ کہیں جماع میں مبتلا نہ ہو جائے۔ اور کفارہ اور قضا نہ کرنا پڑے اس لئے نفس پر قابو نہ ہو تو اس کے لئے بوسہ لینا مکروہ ہے (٢) حدیث میں ہے عن ابی ھریرة ان رجلا سال النبی ۖ عن المباشرة للصائم فرخص لہ واتاہ اخر فنھاہ فاذا الذی رخص لہ شیخ والذی نھاہ شاب (ج) (ابو داؤد شریف ، باب کراہیة للشاب ص ٣٣١ نمبر ٢٣٨٧) حدیث میں جوان کو روکنے کی وجہ یہی تھی کہ اس کو نفس پر قابو نہیں ہے۔ اس لئے مکروہ ہوگا۔
]٥٦٦[(١٦) اگر کسی کو خود بخود قے آگئی تو روزہ نہیں ٹوٹا اور اگر قے جان بوجھ کر کی منہ بھر کر تو اس پر قضا ہے۔
وجہ حدیث میں ہے عن ابی ھریرة ان النبی ۖ قال من ذرعہ القییٔ فلیس علیہ قضاء ومن استقاء عمدا فلیقض (د) (ترمذی شریف ، باب ماجاء فی من استقاء عمدا ص ١٥٣ نمبر ٧٢٠ ابو داؤد شریف ، باب الصائم لیستقی عامدا ص ٣٣١ نمبر ٢٣٨٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خود بخود قے ہوئی تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ کیونکہ کوئی چیز نکلی ہے داخل نہیں ہوئی ہے۔لیکن جان کر قے باہر نکالی اور کی تو چونکہ ان کو قے کرنے میں دخل ہے اس لئے روزہ ٹوٹ جائے گا۔
حاشیہ : (الف) حسن سے آدمی کے بارے میں پوچھاجو رمضان میں دن میں بوسہ لیتا ہو ... حضرت قتادہ نے فرمایا اگر اس سے کودنے والا پانی نکل گیا تو اس پر کچھ نہیں ہے مگر یہ کہ ایک دن روزہ رکھے (ب) آپ نے روزہ دار کے بارے میں پوچھا کہ وہ باسہ لے لے تو فرمایا کہ روزہ ٹوٹ گیا(ج) ایک آدمی نے حضورۖ سے روزہ دار کے لئے مباشرت کے بارے میں سوال کیا تو آپۖ نے اس کو مباشرت کی اجازت دی،اور دوسرا اجازت کے لئے آیا تو آپۖ نے اس کو منع فرمایا۔پس جس کو اجازت دی وہ بوڑھا تھا اور جس کو روکا وہ جوان تھا(د) آپۖ نے فرمایا جس کو قے آگئی ہو اس پر قضا نہیں ہے اور جس نے قے کی جان کر تو وہ قضا کرے۔