Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 1 - یونیکوڈ

360 - 493
نام فاحتلم او نظر الی امرأتہ فانزل او ادھن او احتجم واکتحل او قبل لم یفطر]٥٦٣[(١٣) فان انزل بقبلة او لمس فعلیہ القضاء ولا کفارة علیہ۔

لیا تو روزہ نہیں ٹوٹا۔  
وجہ  (١)  روزہ ٹوٹتا ہے کسی چیز کے پیٹ کے اندر یا دماغ کے اندر جانے سے یا جماع کرنے سے، اوپر کی صورتوں میں نہ جماع کرنا پایا گیا اور نہ پیٹ میں یا دماغ میں کوئی چیز گئی ہے اس لئے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔اثر میں ہے (٢) قال ابن عباس و عکرمة الصوم مما دخل ولیس مما خرج (الف) (بخاری شریف ، باب الحجامة والقییٔ للصائم ص ٢٦٠ نمبر ١٩٣٨) اس اثر سے معلوم ہوا کہ کوئی چیز داخل ہونے سے روزہ ٹوٹتا ہے کسی چیز کے نکلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔البتہ جماع میں منی نکلتی ہے پھر بھی اس لئے ٹوٹتا ہے کہ اس میں لذت کاملہ ہوتی ہے۔ جس کے ٹوٹنے کے بارے میں حدیث ہے (٣)احتلام ہونے سے نہ ٹوٹنے کے بارے میںیہ حدیث ہے  عن رجل من اصحاب النبی ۖ قال قال رسول اللہ لا یفطر من قاء ولا من احتلم ولا من احتجم (ب) (ابوداؤد شریف ، فی الصائم یحتلم نھارا فی شھر رمضان ص ٣٣٠ نمبر ٢٣٧٦ ترمذی شریف ، باب  ماجاء فی الصائم یذرعہ القییٔ ص ١٥٢ نمبر ٧١٩ بخاری شریف ، باب الحجامة والقییٔ للصائم، نمبر١٩٣٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ احتلام ہونے ، خود سے قے ہونے اور پچھنا لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اور اسی پر دوسرے مسئلوں کو قیاس کرلیں (٤) سرمہ لگانے سے روزہ نہ ٹوٹنے کی یہ حدیث ہے  عن عائشة قالت ربما اکتحل النبی ۖ وھو صائم (ج) (سنن للبیھقی،باب الصائم یکتحل ج رابع ص٤٣٧،نمبر٨٢٥٩) عن انس بن مالک انہ کان یکتحل وھو صائم (د)(ابو داؤد شریف ، باب فی الکحل عند النوم ،کتاب الصائم ص ٣٣٠ نمبر ٢٣٧٨ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الکحل للصائم ص ١٥٤ نمبر ٧٢٦)اس حدیث اور اثر سے معلوم ہوا کہ سرمہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔کیونکہ سرمہ لگانے سے دماغ کے اندر کوئی چیز نہیں جاتی ہے۔ بوسہ لینے سے اگر انزال نہیں ہوا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا اس کی یہ حدیث ہے  عن عائشة قالت ان کان رسول اللہ لیقبل بعض ازواجہ وھو صائم ثم ضحکت (ہ)(بخاری شریف، باب القبلة للصائم ص ٢٥٨ نمبر ١٩٢٨ ابو داؤد شریف ، باب القبلة للصائم ص ٣٣١ نمبر ٢٣٨٢) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صرف بوسہ لینے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
لغت  ادھن  :  دھن سے مشتق ہے تیل لگایا،  احتجم   :  حجامت سے مشتق ہے پچھنا لگوایا،  اکتحل  :  کحل سے مشتق ہے سرمہ لگایا،  قبل  :  باب تفعیل سے بوسہ لیا۔ 
]٥٦٣[(١٣) پس اگر بوسہ لینے سے یا چھونے سے انزال ہو گیا تو اس پر قضا ہے۔اس پر کفارہ نہیں ہے۔  

حاشیہ  (پچھلے صفحہ سے آگے)قضا ہے اور نہ کفارہ ہے۔ یعنی روزہ صحیح رہا۔چاہئے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرے(الف) روزہ داخل ہونے سے ٹوٹتا ہے نہ کہ کسی چیز کے نکلنے سے(ب) آپۖ نے فرمایا روزہ نہیں ٹوٹے گا جس نے قے کی، اور نہ جس نے احتلام کیا اور نہ جس نے پچھنا لگوایا (ج) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ کبھی آپۖ سرمہ لگاتے اس حال میں کہ آپۖروزہ دار ہوتے (د) انس بن مالک سرمہ لگاتے اس حال میں کہ وہ روزہ دار ہوتے(ہ) آپۖ اپنی بعض بیوی کا بوسہ لیتے اس حال میں کہ وہ روزہ دار ہوتے ۔پھر وہ ہنس پڑی۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 ( کتاب الطھارة ) 35 1
3 ( باب التیمم ) 73 2
4 (باب المسح علی الخفین) 82 2
5 (باب الحیض) 90 2
6 (باب الانجاس) 101 2
7 (کتاب الصلوة) 113 1
8 (باب الاذان) 121 7
9 (باب شروط الصلوة التی تتقدمھا) 127 7
10 (باب صفة الصلوة) 134 7
11 (باب قضاء الفوائت) 192 7
12 (باب الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة) 195 7
13 (باب النوافل) 200 7
14 (باب سجود السھو) 209 7
15 (باب صلوة المریض) 216 7
16 (باب سجود التلاوة) 221 7
17 (باب صلوة المسافر) 226 7
18 (باب صلوة الجمعة) 238 7
19 (باب صلوة العدین ) 250 7
20 ( باب صلوة الکسوف) 259 7
21 ( باب صلوة الاستسقائ) 263 7
22 ( باب قیام شہر رمضان) 265 7
23 (باب صلوة الخوف) 268 7
24 ( باب الجنائز) 273 7
25 ( باب الشہید) 291 7
26 ( باب الصلوة فی الکعبة) 295 7
27 ( کتاب الزکوة) 298 1
28 (باب زکوة الابل ) 303 27
29 (باب صدقة البقر ) 308 27
30 ( باب صدقة الغنم) 312 27
31 ( باب زکوة الخیل) 314 27
32 (باب زکوة الفضة) 322 27
33 ( باب زکوة الذھب ) 325 27
34 ( باب زکوة العروض) 326 27
35 ( باب زکوة الزروع والثمار ) 328 27
36 (باب من یجوز دفع الصدقة الیہ ومن لایجوز) 337 27
37 ( باب صدقة الفطر) 347 27
38 ( کتاب الصوم) 354 1
39 ( باب الاعتکاف) 378 38
40 ( کتاب الحج ) 383 1
41 ( باب القران ) 426 40
42 ( باب التمتع ) 433 40
43 ( باب الجنایات ) 442 40
44 ( باب الاحصار ) 471 40
45 ( باب الفوات ) 478 40
46 ( باب الھدی ) 481 40
Flag Counter