نام فاحتلم او نظر الی امرأتہ فانزل او ادھن او احتجم واکتحل او قبل لم یفطر]٥٦٣[(١٣) فان انزل بقبلة او لمس فعلیہ القضاء ولا کفارة علیہ۔
لیا تو روزہ نہیں ٹوٹا۔
وجہ (١) روزہ ٹوٹتا ہے کسی چیز کے پیٹ کے اندر یا دماغ کے اندر جانے سے یا جماع کرنے سے، اوپر کی صورتوں میں نہ جماع کرنا پایا گیا اور نہ پیٹ میں یا دماغ میں کوئی چیز گئی ہے اس لئے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔اثر میں ہے (٢) قال ابن عباس و عکرمة الصوم مما دخل ولیس مما خرج (الف) (بخاری شریف ، باب الحجامة والقییٔ للصائم ص ٢٦٠ نمبر ١٩٣٨) اس اثر سے معلوم ہوا کہ کوئی چیز داخل ہونے سے روزہ ٹوٹتا ہے کسی چیز کے نکلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔البتہ جماع میں منی نکلتی ہے پھر بھی اس لئے ٹوٹتا ہے کہ اس میں لذت کاملہ ہوتی ہے۔ جس کے ٹوٹنے کے بارے میں حدیث ہے (٣)احتلام ہونے سے نہ ٹوٹنے کے بارے میںیہ حدیث ہے عن رجل من اصحاب النبی ۖ قال قال رسول اللہ لا یفطر من قاء ولا من احتلم ولا من احتجم (ب) (ابوداؤد شریف ، فی الصائم یحتلم نھارا فی شھر رمضان ص ٣٣٠ نمبر ٢٣٧٦ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الصائم یذرعہ القییٔ ص ١٥٢ نمبر ٧١٩ بخاری شریف ، باب الحجامة والقییٔ للصائم، نمبر١٩٣٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ احتلام ہونے ، خود سے قے ہونے اور پچھنا لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اور اسی پر دوسرے مسئلوں کو قیاس کرلیں (٤) سرمہ لگانے سے روزہ نہ ٹوٹنے کی یہ حدیث ہے عن عائشة قالت ربما اکتحل النبی ۖ وھو صائم (ج) (سنن للبیھقی،باب الصائم یکتحل ج رابع ص٤٣٧،نمبر٨٢٥٩) عن انس بن مالک انہ کان یکتحل وھو صائم (د)(ابو داؤد شریف ، باب فی الکحل عند النوم ،کتاب الصائم ص ٣٣٠ نمبر ٢٣٧٨ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الکحل للصائم ص ١٥٤ نمبر ٧٢٦)اس حدیث اور اثر سے معلوم ہوا کہ سرمہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔کیونکہ سرمہ لگانے سے دماغ کے اندر کوئی چیز نہیں جاتی ہے۔ بوسہ لینے سے اگر انزال نہیں ہوا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا اس کی یہ حدیث ہے عن عائشة قالت ان کان رسول اللہ لیقبل بعض ازواجہ وھو صائم ثم ضحکت (ہ)(بخاری شریف، باب القبلة للصائم ص ٢٥٨ نمبر ١٩٢٨ ابو داؤد شریف ، باب القبلة للصائم ص ٣٣١ نمبر ٢٣٨٢) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صرف بوسہ لینے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
لغت ادھن : دھن سے مشتق ہے تیل لگایا، احتجم : حجامت سے مشتق ہے پچھنا لگوایا، اکتحل : کحل سے مشتق ہے سرمہ لگایا، قبل : باب تفعیل سے بوسہ لیا۔
]٥٦٣[(١٣) پس اگر بوسہ لینے سے یا چھونے سے انزال ہو گیا تو اس پر قضا ہے۔اس پر کفارہ نہیں ہے۔
حاشیہ (پچھلے صفحہ سے آگے)قضا ہے اور نہ کفارہ ہے۔ یعنی روزہ صحیح رہا۔چاہئے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرے(الف) روزہ داخل ہونے سے ٹوٹتا ہے نہ کہ کسی چیز کے نکلنے سے(ب) آپۖ نے فرمایا روزہ نہیں ٹوٹے گا جس نے قے کی، اور نہ جس نے احتلام کیا اور نہ جس نے پچھنا لگوایا (ج) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ کبھی آپۖ سرمہ لگاتے اس حال میں کہ آپۖروزہ دار ہوتے (د) انس بن مالک سرمہ لگاتے اس حال میں کہ وہ روزہ دار ہوتے(ہ) آپۖ اپنی بعض بیوی کا بوسہ لیتے اس حال میں کہ وہ روزہ دار ہوتے ۔پھر وہ ہنس پڑی۔