الشمس]٥٦٠[ (١٠) والصوم ھو الامساک عن الاکل والشرب والجماع نھارا مع النیة]٥٦١[(١١) فان اکل الصائم او شرب او جامع ناسیا لم یفطر]٥٥٢[ (١٢) وان
اللیل (الف) (آیت ١٨٧ سورة البقرة٢) اس آیت سے معلوم ہوا کہ صبح صادق کے پہلے پہلے تک کھاتا رہے گا اور صبح صادق کے وقت سے روزہ شروع ہوگااور غروب آفتاب تک رہے گا۔خیط ابیض سے مراد صبح صادق ہے۔حدیث میں ہے سمرة بن جندب یقول سمعت محمدا ۖ یقول لا یغرن احدکم نداء بلال من السحور ولا ھذا البیاض حتی یستطیر (ب) (مسلم شریف ، باب ان الدخول فی الصوم یحصل بطلوع الفجر ص ٣٥٠ نمبر ١٠٩٤ بخاری شریف نمبر ١٩١٧ ابو داؤد شریف ، باب وقت السحور ، ص ٣٤١ نمبر ٢٣٤٦) اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ صبح صادق سے روزہ شروع ہوگا۔ عن عمر ابن خطاب قال قال رسول اللہ اذا اقبل اللیل من ھھنا وادبر النھار من ھھنا وغربت الشمس فقد افطر الصائم (ج) (بخاری شریف ، باب متی یحل فطر الصائم ص ٢٦٢ نمبر ١٩٥٤) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آفتاب غروب ہونے کے بعد روزہ افطار کرے۔
( جن چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا ان کا بیان )
]٥٦٠[(١٠)روزہ وہ دن میں نیت کے ساتھ کھانے اور پینے اور جماع سے رکنا ہے۔
تشریح کھانے ، پینے اور جماع سے دن میں روزے کی نیت سے رکا رہے تو اس کو روزہ کہتے ہیں۔ ہر جز کی تفصیل اور دلائل پہلے گزر چکے ہیں۔
٥٦١[(١١) پس اگر روزہ دار نے کھانا کھایایا پیا یا جماع کیا بھول کر تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
وجہ بھول کر کھانے ۔پینے اور جماع کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔کیونکہ بھول کرنا وغیرہ معاف ہے۔ عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال اذا فاکل او شرب فلیتم صومہ فانما اطعمہ اللہ وسقاہ (د) (بخاری شریف ، باب الصائم اذا اکل او شرب ناسیا ص ٢٥٩ نمبر ١٩٣٣ ابو داؤد شریف ، باب من اکل ناسیا ص ٣٣٣ نمبر ٢٣٩٨)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کہ بھول سے کھایا یا پیا تو روزہ نہیں ٹوٹا اس کو پورا کرے (٢) عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال من افطر فی شھر رمضان ناسیا فلا قضاء علیہ ولا کفارةولیتم صومہ (ہ) (دار قطنی ٣ کتاب الصوم، ج ثانی ص ١٥٨ نمبر ٢٢٢٣) اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ بھول سے کھایا پیا تو روزہ نہیں ٹوٹا اور نہ اس کی قضا کرنے کی ضرورت ہے۔ اور نہ کفارہ دینے کی ضرورت ہے۔
]٥٦٢[(١٢)اگر سو گیا اور احتلام ہوا (٢) یا عورت کی طرف دیکھا اور انزال ہوا (٣) یا تیل لگایا (٤) یا پچھنا لگایا (٥) یا سرمہ لگایا (٦) یا بوسہ
حاشیہ : (الف) کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ سفید دھاگا کالے دھاگے سے ظاہر ہو جائے فجر میں سے (یعنی صبح صادق ہو جائے)پھر روزے کو رات تک پورا کرو (ب) حضورۖ کو کہتے سنا ،تم لوگوں کو بلال کی اذان سحری کھانے سے دھوکا نہ دے اور نہ یہ سفیدی جب تک کہ یہ پھیل نہ جائے (ج) آپۖ نے فرمایا جب رات اس طرف سے آئے اور دن یہاں سے چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار افطار کرے(د) آپۖ نے فرمایا جب بھول جائے اور کھالے یا پی لے تو اپنا روزہ پورا کرے اس لئے کہ اللہ نے اس کو کھلایا ہے اور اس کو پلایا ہے (ہ) آپ سے منقو ل ہے جس نے رمضان کے مہینہ میں بھول کر افطار کیا تو اس پرنہ( باقی اگلے صفحہ پر)