عبدا]٥٥٨[(٨) فان لم یکن فی السماء علة لم تقبل الشھادة حتی یراہ جمع کثیر یقع العلم بخبرھم ]٥٥٩[(٩) ووقت الصوم من حین طلوع الفجر الثانی الی غروب
نمبر ٦٩١) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رمضان کے ثبوت کے لئے ایک آدمی کی گواہی کافی ہے۔
]٥٥٨[(٨)اور اگر آسمان میں علت نہ ہو تو گواہی قبول نہیں کی جائے گی یہاں تک کہ ایک بڑی جماعت دیکھے جس کی خبر سے علم یقینی واقع ہو وجہ اگر آسمان پر بادل ، غبار ،کہر ،دھواں وغیرہ نہیں ہے اور چاند نظر آنے کے قابل ہو گیا ہے تو ہر ڈھونڈنے والے کو نظر آئے گا اور کافی آدمی اس کو دیکھیں گے۔ لیکن اس کے باوجود ایک دو آدمیوں نے دیکھنے کا دعوی کیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ اور محال عادی ہے اس لئے ایک دو آدمیوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ بلکہ اتنے آدمی دیکھیں کہ اس کی خبر سے علم یقینی ہواور جھوٹ پر محمول نہ کیا جا سکے۔ اثر میں ہے قلت لعطاء ارایت لو ان رجلا رای ھلال رمضان قبل الناس بلیلة ایصوم قبلھم ویفطر قبلھم ؟ قال لا الا ان راہ الناس اخشی یکون شبہ علیہ (الف) (مصنف عبد الرزاق ، باب کم یجوز من الشھود علی رویة الھلال ج رابع ص ١٦٧ نمبر ٧٣٤٨) اس اثر سے معلوم ہوا کہ رویت عامہ ہو تب قبول کیا جائے گا۔
تجربہ زمانے کا تجربہ یہ ہے کہ جب چاند دیکھنے کے قابل ہو جاتا ہے اور مطلع صاف ہو تو ہر آدمی کو نظر آتا ہے۔لیکن دکھنے کے قابل نہ ہو تو کسی کو نظر نہیں آتا۔ ایسے موقع پر ایک دو گواہی گزرتی ہے اور وہ جھوٹی گواہی ہوتی ہے۔ اس وقت چاند آسمان پر ہلال ہی بنا نہیں ہوتا۔ چاند نیو مون سے اٹھارہ گھنٹے کے بعد دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ جو لوگ اس سے قبل دیکھنے کا دعوی کرتے ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں۔
نوٹ عرب کے علماء نے ایک گواہی اور دو گواہی پر چاند ہونے کا فیصلہ دیا اور رویت عامہ کا اعتبار نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں کیلنڈر ایک دن مقدم اور دیڑھ دن مقدم تاریخ پر بنائی گئی۔ اور اسی پر ایک دو گواہی لیکر رویت کا اعلان کرتے ہیں۔ اور ساڑھے ستائیس پر یا اٹھائیس پر گواہی لیتے ہیں۔ اور اعلان رویت کر لیتے ہیںان کا کبھی بھی حقیقت میں انتیس اور تیس پورے نہیں ہوتے۔صرف مقدم کیلنڈر کا انتیس اور تیس پورا کرتے ہیں جو قطعا جائز نہیں ہے۔ اور ایک روز فرض روزہ ضائع کرتے ہیں۔ العیاذ والحفیظ ! اس لئے مطلع صاف ہو تو رویت عامہ پر رویت کا فیصلہ کرنا چاہئے۔
]٥٥٩[(٩) روزہ کا وقت صبح صادق طلوع ہونے کیوقت سے سورج غروب ہونے تک ہے۔
تشریح صبح صادق کے وقت سے لیکر غروب آفتاب تک روزہ کا وقت ہے۔
وجہ آیت میں ہے وکلوا واشربوا حتی تیبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود من الفجر ثم اتموا الصیام الی
حاشیہ : (پچھلے صفحہ سے آگے )حضورۖ کے پاس آیا اور کہا میں نے چاند دیکھا ہے۔حضرت اپنی حدیث میں کہتے ہیں یعنی رمضان کا چاند دیکھا ہے تو آپۖ نے پوچھا لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتے ہو؟کہاں ہاں ! آپۖ نے پوچھا محمد رسول اللہ کی گواہی دیتے ہو؟ کہا ہاں ! آپ ۖ نے فرمایا اے بلال لوگوں میں اعلان کردوکہ کل روزہ رکھیں(الف) میں نے حضرت عطا سے پوچھا اگر کوئی آدمی لوگوں سے ایک رات پہلے رمضان کا چاند دیکھے تو آپ کی کیا رائے ہے ؟ کیا اس کے پہلے روزہ رکھے اور اس کے پہلے افطار کرے ؟ حضرت عطاء نے فرمایا نہیں،مگر یہ کہ لوگ دیکھیں ۔ہو سکتا ہے کہ اس کو شبہ ہوا ہو۔