ھلال رمضان وحدہ صام وان لم یقبل الامام شھادتہ]٥٥٧[ (٧) واذا کان فی السماء علة قبل الامام شھادة الواحد العدل فی رویة الھلال رجلا کان او امرأة، حرا کان او
وجہ چونکہ وہ آدمی چاند دیکھ چکا ہے اس لئے اس کے حق میں رمضان ہے اس لئے وہ خود رزہ رکھے۔حدیث میں گزرا کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور اس نے چاند دیکھا ہے اس لئے اس کو روزہ رکھنا چاہئے۔
نوٹ اگر اس نے روزہ نہیں رکھا تو قضا لازم ہوگی کفارہ نہیں۔ کیونکہ قاضی کے انکار کرنے کی وجہ سے شبہ پیدا ہوگیا اور کفارہ شبہ سے ساقط ہو جاتا ہے۔
اصول خود کسی بات پر یقین کرتا ہو تو اس کو کرنا چاہئے،لیکن دوسروں پر لازم نہیں کر سکتا جب تک کہ قضاء قاضی یا شہادت ملزمہ نہ ہو۔
]٥٥٧[(٧) اگر آسمان میں کوئی علت ہو تو چاند دیکھنے کے بارے میں امام ایک عادل آدمی کی گواہی قبول کریںگے۔چاہے وہ مرد ہو یاعورت ،آزاد ہو یا غلام۔
تشریح آسمان میں علت کا مطلب یہ ہے کہ افق پر غبار ہو،کہر ہو یا بادل ہو تو ممکن ہے کہ کسی کو چاند نظر آ جائے اور کسی کو نظر نہ آئے اس لئے ایک آدمی کی گواہی بھی قبول ہوگی۔
وجہ چاند دیکھنے کا معاملہ امر دینی ہے ۔معاملات نہیں ہے اس لئے ایک آدمی کی گواہی بھی قابل قبول ہے۔اور تکمیل شہادت یعنی دو گواہی کی ضرورت نہیں (٢) حدیث میں ہے عن ربعی بن حراش عن رجل من اصحاب النبی ۖ قال اختلف الناس فی آخر یوم من رمضان فقدم اعرابیان فشھدا عند النبی ۖ باللہ لا ھلا الھلال امس عشیة فامر رسول اللہ ۖ الناس ان یفطروا (الف) (ابو داؤد شریف ، باب شہادة رجلین علی رویة ھلال شوال ص ٣٢٦ نمبر ٢٣٣٩) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عید الفطر کے چاند کے لئے دو گواہ ضروری ہیں، دار قطنی میں ہے قالا و کان رسول اللہ ۖ لا یجیزشھادة الافطار الا بشھادة رجلین (ب) (دار قطنی ، کتاب الصوم ج ثانی ص ١٣٧ نمبر ٢١٢٩) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آسمان پر علت ہو تو عید کے لئے دو گواہوں سے عید کا فیصلہ کریں گے اس سے کم کا نہیں۔ کیوں کہ اس پر فرض روزہ چھوڑنے کا مدار ہے۔اور لوگوں کا فائدہ ہے اس لئے یہ معاملات کی طرح ہو گیا اور معاملات میں دو آدمیوں کی گواہی کی ضرورت ہے۔ اس لئے عید اور بقرہ عید کے چاند کے لئے دو گواہوں کی ضرورت ہے۔اور رمضان کا رزہ شروع کرنے کے لئے ایک گواہ کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ امر دینی ہے اور امر دینی کے ثبوت کے لئے ایک گواہ کافی ہے (٢)حدیث میں ہے عن ابن عباس قال جاء اعرابی الی النبی ۖ فقال انی رایت الھلال قال الحسن فی حدیثہ یعنی رمضان فقال اتشھد ان لاالہ الا اللہ؟ قال نعم قال اتشھد ان محمدا رسول اللہ قال نعم قال یا بلال اذن فی الناس فلیصوموا غدا (ج) (ابو داؤد شریف ، باب فی شھادة الواحد علی رویة ھلال رمضان ص ٣٢٧ نمبر ٢٣٤٠ ترمذی شریف ، باب ما جاء فی الصوم بالشہادة ص ١٤٨
حاشیہ : (الف) لوگوں نے رمضان کے آخری دن میں اختلاف کیا ،پس دو دیہاتی آئے اور حضورۖ کے سامنے گواہی دی خدا کی قسم کل شام کو چاند دونوں نے دیکھا ہے۔پس حضورۖ نے لوگوں کو حکم دیا کہ افطار کریں(ب)آپ ۖ افطار کی گواہی جائز نہیں قرار دیتے تھے مگر دو آدمی کی گواہی سے (ج)ایک دیہاتی(باقی اگلے صفحہ پر)