]٥٥٥[(٥) وینبغی للناس ان یلتمسواالھلال فی الیوم التاسع والعشرین من شعبان فان راوہ صاموا وان غم علیہم اکملوا عدة شعبان ثلیثین یوما ثم صاموا]٥٥٦[ (٦) ومن رای
تشریح زوال سے پہلے پہلے نیت کرے تب بھی نفل روزہ جائز ہے۔
وجہ (١) نفل روزہ چونکہ ذمے میں نہیں ہے ۔اس لئے اگر صبح سے ابھی تک کھایا پیا نہ ہو اور زوال سے پہلے روزے کی نیت کر لے تو چونکہ آدھا دن سے زیادہ روزہ کی نیت ہوئی اس لئے روزہ درست ہو جائے گا(٢) عن عائشة رضی اللہ عنھا قالت کان النبی ۖ اذا دخل علی قال ھل عندکم طعام فاذا قلنا لا قال انی صائم (الف) (ابو داؤد شریف ، باب فی الرخصہ فیہ ص ٣٤٠ نمبر٢٤٥٥ مسلم شریف ، باب جواز صوم النافلة بنیة من النہار قبل الزوال ص ٣٦٤ نمبر ١١٥٤) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دن میں کھانے کا انتظام نہیں ہوا تو آپۖ نے روزہ کی نیت کر لی جس سے معلوم ہوا کہ نفل روزے کی نیت زوال سے پہلے پہلے کر لینے سے روزہ درست ہو جاتا ہے۔
( رویت ہلال کا مسئلہ )
]٥٥٥[(٥) انسان کے لئے مناسب ہے کہ چاند کو انتیسویں شعبان کو تلاش کرے،پس اگر چاند دیکھ لیا تو سب روزہ رکھیں اور اگر لوگوں پر پوشیدہ رہا تو تو شعبان کے تیس دن پورے کریں اور پھر روزہ رکھیں۔
تشریح شعبان کی انتیسویں تاریخ کو چاند تلاش کرنا چاہئے۔اگر نظر آجائے تو روزہ رکھے اوت نظر نہ آئے تو شعبان کی تیس پوری کرکے روزہ رکھے ۔
وجہ حدیث میں ہے عن عبد اللہ بن عمران رسول اللہ ۖ قال الشھر تسع و عشرون لیلة فلا تصوموا حتی تروہ فان غم علیکم فاکملوا العدة ثلثین (ب) ( بخاری شریف ، باب قول النبی ۖ اذا رایتم الھلال فصوموا واذا رایتموہ فافطروا ،ص ٢٥٦، نمبر ١٩٠٧ مسلم شریف ، باب وجوب صوم رمضان لرویة الہلال ص ٣٤٧ نمبر ١٠٨١) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چاند دیکھ کر رزہ رکھنا چاہئے اور انتیس کو چاند نظر نہ آئے توتیس پورے کرے۔
نوٹ مراکش کو چھوڑ کر عرب کے تقریبا سارے ملک وجود قمر پر یعنی نیو مون کے فورا بعد پر کیلنڈر بناتے ہیں جو چاند نظر آنے سے ایک دن مقدم ہوتا ہے۔ اس پر نہ چاند نظر آئے گا اور نہ آسکتا ہے۔ اللہ تعالی ان کو ہدایت دے۔ بر صغیر کے علماء محقق رویت بصری کرتے ہیں اور صحیح تاریخ پر ہمیشہ اعلان کرتے ہیں۔ اللہ ان کو جزائے خیر سے نوازے۔
لغت غم علیکم : چاند چھپ جائے، چاند نظر نہ آئے۔
]٥٥٦[(٦) کسی نے رمضان کا چاند اکیلے دیکھا تو روزہ رکھے اگر چہ امام نے اس کی گواہی قبول نہ کی ہو۔
تشریح ایک اکیلے آدمی نے رمضان کا چاند دیکھا اور قاضی نے کسی وجہ سے اس کی گواہی قبول نہیں کی تو وہ آدمی خود روزہ رکھ لے۔
حاشیہ : (الف) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب آپۖ ہمارے پاس تشریف لاتے تو پوچھتے کیا تمہارے پاس کھانا ہے ؟ پس جب ہم کہتے نہیں تو فرماتے میں اب روزہ دار ہوں (ب) آپۖ نے فرمایا مہینہ انتیس راتوں کا ہوتا ہے تو مت روزہ رکھو جب تک چاند دیکھ نہ لو،پس اگر تم پر چاند چھپ جائے تو تیس دن پورے کرو۔