Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 1 - یونیکوڈ

356 - 493
 ]٥٥٥[(٥) وینبغی للناس ان یلتمسواالھلال فی الیوم التاسع والعشرین من شعبان فان راوہ صاموا وان غم علیہم اکملوا عدة شعبان ثلیثین یوما ثم صاموا]٥٥٦[ (٦) ومن رای 

تشریح  زوال سے پہلے پہلے نیت کرے تب بھی نفل روزہ جائز ہے۔  
وجہ  (١) نفل روزہ چونکہ ذمے میں نہیں ہے ۔اس لئے اگر صبح سے ابھی تک کھایا پیا نہ ہو اور زوال سے پہلے روزے کی نیت کر لے تو چونکہ آدھا دن سے زیادہ روزہ کی نیت ہوئی اس لئے روزہ درست ہو جائے گا(٢) عن عائشة رضی اللہ عنھا قالت کان النبی ۖ اذا دخل علی قال ھل عندکم طعام فاذا قلنا لا قال انی صائم (الف) (ابو داؤد شریف ، باب فی الرخصہ فیہ ص ٣٤٠ نمبر٢٤٥٥ مسلم شریف ، باب جواز صوم النافلة بنیة من النہار قبل الزوال ص ٣٦٤ نمبر ١١٥٤) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دن میں کھانے کا انتظام نہیں ہوا تو آپۖ نے روزہ کی نیت کر لی جس سے معلوم ہوا کہ نفل روزے کی نیت زوال سے پہلے پہلے کر لینے سے روزہ درست ہو جاتا ہے۔
(  رویت ہلال کا مسئلہ  )
]٥٥٥[(٥) انسان کے لئے مناسب ہے کہ چاند کو انتیسویں شعبان کو تلاش کرے،پس اگر چاند دیکھ لیا تو سب روزہ رکھیں اور اگر لوگوں پر پوشیدہ رہا تو تو شعبان کے تیس دن پورے کریں اور پھر روزہ رکھیں۔  
تشریح  شعبان کی انتیسویں تاریخ کو چاند تلاش کرنا چاہئے۔اگر نظر آجائے تو روزہ رکھے اوت نظر نہ آئے تو شعبان کی تیس پوری کرکے روزہ رکھے ۔
 وجہ  حدیث میں ہے  عن عبد اللہ بن عمران رسول اللہ ۖ قال الشھر تسع و عشرون لیلة فلا تصوموا حتی تروہ فان غم علیکم فاکملوا العدة ثلثین (ب) ( بخاری شریف ، باب قول النبی ۖ اذا رایتم الھلال فصوموا واذا رایتموہ فافطروا ،ص ٢٥٦، نمبر ١٩٠٧ مسلم شریف ، باب وجوب صوم رمضان لرویة الہلال ص ٣٤٧ نمبر ١٠٨١) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چاند دیکھ کر رزہ رکھنا چاہئے اور انتیس کو چاند نظر نہ آئے توتیس پورے کرے۔  
نوٹ  مراکش کو چھوڑ کر عرب کے تقریبا سارے ملک وجود قمر پر یعنی نیو مون کے فورا بعد پر کیلنڈر بناتے ہیں جو چاند نظر آنے سے ایک دن مقدم ہوتا ہے۔ اس پر نہ چاند نظر آئے گا اور نہ آسکتا ہے۔ اللہ تعالی ان کو ہدایت دے۔ بر صغیر کے علماء محقق رویت بصری کرتے ہیں اور صحیح تاریخ پر ہمیشہ اعلان کرتے ہیں۔ اللہ ان کو جزائے خیر سے نوازے۔  
لغت  غم علیکم  :  چاند چھپ جائے، چاند نظر نہ آئے۔
]٥٥٦[(٦)  کسی نے رمضان کا چاند اکیلے دیکھا تو روزہ رکھے اگر چہ امام نے اس کی گواہی قبول نہ کی ہو۔  
تشریح  ایک اکیلے آدمی نے رمضان کا چاند دیکھا اور قاضی نے کسی وجہ سے اس کی گواہی قبول نہیں کی تو وہ آدمی خود روزہ رکھ لے۔  

حاشیہ  :  (الف) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب آپۖ ہمارے پاس تشریف لاتے تو پوچھتے کیا تمہارے پاس کھانا ہے ؟ پس جب ہم کہتے نہیں تو فرماتے میں اب روزہ دار ہوں (ب) آپۖ نے فرمایا مہینہ انتیس راتوں کا ہوتا ہے تو مت روزہ رکھو جب تک چاند دیکھ نہ لو،پس اگر تم پر چاند چھپ جائے تو تیس دن پورے کرو۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 ( کتاب الطھارة ) 35 1
3 ( باب التیمم ) 73 2
4 (باب المسح علی الخفین) 82 2
5 (باب الحیض) 90 2
6 (باب الانجاس) 101 2
7 (کتاب الصلوة) 113 1
8 (باب الاذان) 121 7
9 (باب شروط الصلوة التی تتقدمھا) 127 7
10 (باب صفة الصلوة) 134 7
11 (باب قضاء الفوائت) 192 7
12 (باب الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة) 195 7
13 (باب النوافل) 200 7
14 (باب سجود السھو) 209 7
15 (باب صلوة المریض) 216 7
16 (باب سجود التلاوة) 221 7
17 (باب صلوة المسافر) 226 7
18 (باب صلوة الجمعة) 238 7
19 (باب صلوة العدین ) 250 7
20 ( باب صلوة الکسوف) 259 7
21 ( باب صلوة الاستسقائ) 263 7
22 ( باب قیام شہر رمضان) 265 7
23 (باب صلوة الخوف) 268 7
24 ( باب الجنائز) 273 7
25 ( باب الشہید) 291 7
26 ( باب الصلوة فی الکعبة) 295 7
27 ( کتاب الزکوة) 298 1
28 (باب زکوة الابل ) 303 27
29 (باب صدقة البقر ) 308 27
30 ( باب صدقة الغنم) 312 27
31 ( باب زکوة الخیل) 314 27
32 (باب زکوة الفضة) 322 27
33 ( باب زکوة الذھب ) 325 27
34 ( باب زکوة العروض) 326 27
35 ( باب زکوة الزروع والثمار ) 328 27
36 (باب من یجوز دفع الصدقة الیہ ومن لایجوز) 337 27
37 ( باب صدقة الفطر) 347 27
38 ( کتاب الصوم) 354 1
39 ( باب الاعتکاف) 378 38
40 ( کتاب الحج ) 383 1
41 ( باب القران ) 426 40
42 ( باب التمتع ) 433 40
43 ( باب الجنایات ) 442 40
44 ( باب الاحصار ) 471 40
45 ( باب الفوات ) 478 40
46 ( باب الھدی ) 481 40
Flag Counter