ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 99 کی عبارت کرو یعنی خوشی ظاہر کیا کرو ۔ کیونکہ شیطان کو علم نہیں ہے جب تم خوشی ظاہر کرو گے تو وہ یہی سمجھے گا کہ دل سے خوش ہو رہا ہے اور وہ مسلمان کو خوش کرنا نہیں چاہتا ۔ اس لئے وسوسہ ڈالنا بند کر دے گا ۔ ( بس ترکیب یہ ہے کہ تم غلبہ کے وقت اتنا کہ دیا کرو کہ میں ان وسوسوں سے نہیں گھبراتا اور وسوسے ڈال دے میں نہایت خوش ہوں ۔ دفع وسوسہ کا مجرب طریق تحقیق ۔ وسوسہ کو بلا واسطہ دفع کرنا مفید نہیں ہوتا بلکہ بواسطہ اذکار دفع کرنا چاہئے ۔ دفع وساوس کا طریق رسوخ ذکر ہے تحقیق ۔ تم مجاہدہ کرو مگر ثمرات کے منتظر نہ ہو کام میں لگے رہو ۔ اور شیطان کے جلدی بھاگنے کا انتظار نہ کرو ۔ کیونکہ وہ تمہاری جلدی سے جلد نہیں بھاگے گا بلکہ وہ تو اس وقت بھاگے گا جب ذکر راسخ ہو جائے گا اور ذکر کا راسخ ہونا ایک دو دن کا کام نہیں ۔ صوفی نشود صافی ت ادر نکشد جامی بسیار سفر باید تا پختہ شود خامی رغبت اضطراریہ الی لاجنبیہ کا علاج تحقیق ۔ رغبت اضطراریہ الی الاجنبیہ پر مواخذہ نہیں بلکہ مواخذہ قصد پر ہے اگر عمدا کسی مرد یا عورت کی طرف توجہ کرے گا تو گناہ ہو گا اسکا علاج بے التفاتی برتنا اور تجوہ الی اللہ کرنا اگر یہ تدبیر ظاہرا کافی نہ معلوم ہو تب بھی یہ چاہئے کہ غم نہ کرے انشاء اللہ اسی طرح رفتہ رفتہ ایک دن دفع ہو جائے گا ۔ اور اگر عمر بھر بھی دفع نہ ہو تو تم اس تدبیر کرنے کے بعد سبکدوش ہو گئے اب تم کو اس خیال سے کچھ ضرر نہیں بلکہ نافع ہو گا کیونکہ تم مجاہدہ میں مشغول ہو چنانچہ حدیث میں ہے کہ من عشق فعف و کتم فعاف فھو شھید یعنی جو کسی پر عاشق ہو گیا پھر اس نے عفت اختیار کی اور اپنے عشق کو چھپایا وہ شہید ہے عفت کی قید میں عفت جوراح و عفت قلب سب داخل ہیں ۔ اور عفت قلب سے مراد وہی ہے کہ بالاختیار اور بالقصد خیال نہ لائے ۔ اور شہید ہونا بھی عقلا ظاہر ہے کہ جب تپ دق کا کھلا ہوا شہید ہے تو تپ عشق کا مارا ہوا تو ضرور ہی شہید ہو گا ۔ کیونکہ حرارت حمی سے حرارت عشق اشد ہے ۔