ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 98 کی عبارت اس وقت دوسری طرف توجہ قصد و اختیار سے نہ ہونا چاہئے اور بلا اختیار ( توجہ ) منافی نیت نہیں ۔ اس لئے مکرر بہ کر نیت کرنا اس خیال سے کہ تحریمہ کے وقت نیت نہیں ہوئی اور عزم نہیں ہوا یا تحریمہ کی طرف توجہ نہ تھی یہ سب لغو ہے تکرار نیت کی ضرورت نہیں ۔ وساوس کی عجیب مثال تحقیق ۔ وساوس کی مثال ہوا کی طرح ہے کہ جو شخص برتن میں سے تنہا ہوا نکالنا چاہے وہ عاجز ہو جاوے گا کیونکہ خلا محال ہے ہاں برتن میں پانی بھر دو جب وہ منہ تک بھر جاوے گا پھر ہوا کا نام نہ رہے گا پس تم اپنے قلب میں لقائے رب اور رجوع الی اللہ کا خیال اچھی طرح بھر لو پھر وساوس کا نام بھی نہ رہے گا ۔ وساوس کی آئینہ جمال حق بننے کی صورت تحقیق ۔ اگر یوں سوچے کہ اللہ اکبر خدا نے میرے دل کو بھی کیسا دریا بنا دیا ہے کہ جس میں وساوس کی بے شمار موجیں اٹھ رہی ہیں جن کی کوئی انتہا نہیں ہے تو وہ وساوس آئینہ جمال حق بن جائیں گے ۔ وسوسہ خلاف تقوی نہیں تحقیق ۔ ان الذین التقوا اذا مسھم طائف من الشیطان تذکرو فا ذاھم مبصرون اس سے معلوم ہوا کہ وسوسہ کا آںا خلاف تقوی نہیں بلکہ متقی کو بھی وسوسہ آ سکتا ہے اور وہ اس کے ساتھ بھی متقی رہتا ہے ۔ اس میں بڑی تسلی ہے اہل سلوک کے لئے پس وسوسہ سے پریشان نہ ہونا چاہئے ۔ وسوسہ کا ایک مجرب علاج تحقیق ۔ وسوسہ کا علاج یہی ہے کہ اس سے پریشان نہ ہو بلکہ حضرت حاجی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ ان وساوس کو جمال حق کا مراۃ بنا لے اس طرح کہ یوں مراقبہ کرے کہ اللہ تعالی کی کیسی عجیب قدرت ہے ۔ کہ دل میں ایک دریا خیالات کا پیدا کر دیا ہے جس کی کہیں انتہا ہی نہیں اور جو کہیں رکتا ہی نہیں اسی طرح وساوس کو قدرت حق کی معرفت کا وسیلہ بنانے سے انشاء اللہ وہ خود بند ہو جائیں گے ۔ کیونکہ شیطان کا مقصود تو وساوس سے خدا سے بعید کرنا تھا ۔ جب اس نے ان کو ہی قرب کا وسیلہ بنا لیا تو اب شیطان وسوسے ڈالنا بند کر دے گا ۔ غالبا شیخ الو سلیمان دارانیؒ کا ارشاد ہے کہ وساوس سے خوش ہوا