ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 100 کی عبارت قبض قبض سے خود کشی دلیل معرفت ناقص کی ہے تحقیق ۔ اہل معرفت نے تو ناراضی کے شبہ پر خود کشی تک کر لی ہے گو یہ غلطی تھی کیونکہ خود کشی میں تو ناراضی متیقن ہے اور قبض میں ناراضی کا احتمال ہی احتمال ہے مگر اس وقت اضطراب اور گٹھن ایسا ہوتا ہے کہ ان مقدمات کی طرف خیال ہی نہیں جاتا ۔ اس لئے ممکن ہے کہ یہ خود کشی کرنے والے معذور ہوں ۔ لیکن ان کی معرفت ناقص ضرور تھی کامل نہ تھی ۔ اسی لئے تمام پہلوؤں پر نظر نہ گئی ۔ ایسے وقت میں عارف محقق تسلیم و رضاء سے کام لیتا ہے اور اگر اس گھٹن اور بے چینی میں خود بخود اس کی جان نکل جائے تو یہ شہید اکبر ہو گا ۔ اے حیریفان راہ مار اب ست یاد آہوئے لنگیم داد شیرس شکار غیر تسلیم و رضا کو چارہ در کف شیر نر خونخوارہ علاج قبض شدید اور اس کے منافع جن کا خلاصہ فنائے نام ہے حال ۔ میرے اوپر سخت شدید حالت قبض طاری ہے ۔ قلب بالکل خالی معلوم ہوتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں بالکل مر دود ہو گیا اس وقت حالا اپنے کو کافر سے بھی زیادہ بدتر سمجھتا ہوں نہ نماز میں پہلی سی حالت نہ ذکر کی رغبت بار بار خود کشی کو دل چاہتا ہے ۔ تحقیق ۔ مبارک یہ وہ حالت ہے کہ میری تمنا دل سے اپنے متعلقین کے لئے اس کے طاری ہونے کی بشرط البصیرہ والاستقلال ہوا کرتی ہے اور اس کے منافع اس قدر ہیں کہ احصار میں نہیں آ سکتے ۔ مثلا عجب و کبر کی جڑ کٹ جانا ہر وقت استضار اپنے محل تصرف ہونے کا ۔ وساوس و خطرات غیر اختیاریہ یعنی تصرفات شیطانیہ کی انتہا معلوم ہو کر جھجھک نکل جانا جو شرعا عین مطلوب ہے اگر مرتے وقت کسی کو ایسی حالت پیش آئے وہ طبعا گھبرا جائے اور خدا جانے گھبراہٹ میں کیا سمجھ جائے حالت حیات وعلم میں اس کے پیش آ جانے سے اس کا محقق ہو جاتا ہے اور بوقت مرگ پیش آئے تو وہ مؤثر نہیں ہوتی ۔وغیرہ ذالک من فی المنافع والمصالح جن سب کا خلاصہ فنائے تام ہے اور اس کے بعد جو بسط ہوتا ہے وہ بھی بے نظیر ہوتا ہے ۔ الحمد للہ اس حالت کے منافی اللہ تعالی نے مجھے بھی مشاہدہ کرائے ہیں ۔ تب ہی سے اس کو حصول مقصود کے لئے مثل جزو اخیر علت تامہ کے سمجھ رہا ہوں ۔ اور اسی سے اپنے احباب کے لئے اس کا